درجنوں تارکین وطن بحیرۂ روم میں ڈوب کر ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA

بحیرۂ روم میں لیبیا کے ساحل کے قریب ایک کشتی کے الٹنے سے کم از کم 30 پناہ گزیں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 77 افراد کو یورپی یونین کے بحری دستوں نے بچا لیا ہے۔

لیبیا کے ساحل سے 35 نوٹیکل میل یا 65 کلو میٹر کے فاصلے پر اُس جگہ جب یورپی یونین کی ٹاسک فورس اور اطالوی کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز پہنچے تو بہت سے تارکین وطن الٹنے والی کشتی کو پکڑے تیر رہے تھے۔

کشتی کے الٹنے کی اطلاع لگسمبرگ کے نگرانی کرنے والے ہوائی جہازوں نے دی تھی۔

اطالوی بحریہ نے بدھ کو سمندر میں الٹ جانے والی کشتی سے 562 افراد کو بچایا تھا۔

گذشتہ ہفتے خطرناک کشتیوں میں بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش میں چھ ہزار کے قریب تارکین وطن کو بچایا گیا ہے۔

عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد تارکین وطن نے بحیرۂ ایجین عبور کر کے ترکی سے یونان پہنچنے کا راستہ ترک کر دیا اور اب لیبیا سے بحیرۂ روم عبور کر کے اٹلی پہنچنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے ترجمان انتولینو رینزز سونینو کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق 20 سے 30 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہسپانوی جہاز رینا صوفیا کے عملے اور اطالوی کوسٹ گارڈز نے سمندر کی سطح پر تیرتے افراد کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے لائف جیکٹس اور ربڑ کی کشتیاں سنمدر میں پھینکیں۔