اتحادی حکومت کا لیبیا میں اقتدار میں آنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty
تیونس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت والی لیبیا کی صدارتی کونسل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ لیبیا میں حریف قوتوں سے معاملات ختم کر دیں۔
گذشتہ مہینے کونسل نے ایک اتحادی حکومت نامزد کی تھی لیکن کابینہ کی منظوری تاخیر کا شکار ہے۔
سنہ 2011 میں کرنل معمر قذافی کے زوال کے بعد سنہ 2014 سے لیبیا میں دو حکومتیں اقتدار حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔
تبروک میں مشرقی ایوان نمائندگان (ایچ او آر) ابھی تک اتحاد کی حکومت کی توثیق کرنے سے قاصر رہی ہے۔
سنیچر کو کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ ایچ او آر کے اراکین کی اکثریت نے حکومت کی حمایت والی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں اور پولیٹیکل ڈائیلاگ ٹیم نے بھی اس کی حمایت کی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ’کام شروع کرنے کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی گئی ہے۔‘
بہر حال اس سے قبل جمعرات کو لیبیا کی پولیٹیکل ڈائیلاگ ٹیم، جس میں لیبیا کی سیاسی شخصیات شامل ہیں، اور دونوں حریف پارلیمانوں کے بعض اراکین اس سمت میں راہ ہموار کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تیونس سے بی بی سی کے رانا جواد کا کہنا ہے کہ انھوں نے مجوزہ حکومت کے بارے میں جلدی ووٹنگ کرانے کی بات کہی تھی۔
صدارتی کونسل کو صدر قذافی کے بعد سے لیبیا میں خانہ جنگی کی صورت حال ختم کرنے کے لیے حکومت سازی کے لیے راہ ہموار کرنے کا کام دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن تیونس میں قائم کونسل کو دونوں حکومتوں کے سخت گیر ایوان نمائندگان کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ خیال رہے کہ اس کونسل کو عالمی سطح پر قبولیت حاصل ہے۔
دوسری جانب سیاسی اور سکیورٹی سطح پر ملک میں موجود خلا نےجنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کو شمالی افریقی ملک میں اپنے قدم جمانے کا موقع فراہم کیا ہے اور یہ شہروں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
کونسل کا قیام اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک معاہدے کے نتیجے میں دسمبر میں عمل میں آیا تھا۔ اس کی پہلی تجویز اختلاف کا شکار ہو گئی تھی کہ کون سینيئر سکیورٹی عہدہ سنبھالے گا۔
کونسل کے اراکین ابھی بھی لیبیا سے باہر کام کر رہے ہیں کیونکہ دارالحکومت تریپولی میں موجود دونوں متحارب حکومتیں اور ان کے حامی ملیشیا کسی سیاسی اتحاد کے خلاف ہیں۔







