’اقوام متحدہ کا گھٹنے ٹیکنا افسوس ناک ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

یمن میں بین الاقوامی امدادی اداروں کےلیے کام کرنے والوں کارکنوں نے اقوام متحدہ کی طرف سے بچوں اور عورتوں پر ظلم کرنے والوں کی فہرست میں سے یمن پر حملہ آور سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا نام خارج کیے جانے پر شدید رنج اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے یمن کے لوگوں کے ساتھ صریحاً زیادتی قرار دیا ہے۔

برطانوی امدادی ادارے آکسفیم کے یمن میں کنٹری ڈائریکٹر سجاد محمد ساجد نے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے اس اقدام پر بہت مایوسی کا شکار ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے سعودی عرب کا نام خارج کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ضامن ہے اور اس کو طاقت ور ملکوں کے سامنے اس طرح گھٹنے نہیں ٹیک دینے چاہییں۔

یمن میں صورت حال کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے اسے تباہ کن قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ دو کروڑ لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں، چھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک ہزار کے قریب بچے ہیں۔ سجاد محمد ساجد نے بتایا کہ 28 لاکھ لوگ ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

سجاد محمد ساجد گذشتہ دو سال سے یمن میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن کے لوگ غذائی قلت کا بری طرح شکار ہیں اور لوگوں کی اکثریت کو صرف ایک وقت کی روٹی میسر ہے۔ انھوں نے کہا: ’میں نے دیہات میں جا کر لوگوں سے بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تین وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے۔‘

ان کے مطابق لوگوں کو گوشت اور سبزیاں میسر نہیں ہیں اور وہ صرف چاولوں اور روٹی پر گزارا کر رہے ہیں۔

اوکفیسم کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ یمن کی پوری ایک نسل تباہ ہو رہی ہے، نہ ان کو مناسب خوارک میسر ہے اور نہ تعلیم۔ انھوں نے کہا کہ سکولوں کی عمارتیں یا تو مسلسل فضائی بمباری میں تباہ ہو چکی ہیں یا پھر ان میں تعلیم و تدریس کا سلسلہ معطل ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یمن کی جزوی ناکہ بندی کی وجہ سے وہاں ضروریات زندگی اور خوارک کی اشیا پہنچ نہیں پا رہی جس کی وجہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

سجاد محمد ساجد نے بتایا کہ لوگوں کی قوت خرید انتہائی کم ہو گئی ہے، اور جن لوگوں کے پاس پیسے بھی ہیں وہ بھی بازار سے اپنی ضروریات کی اشیا خرید نہیں پاتے۔