دولت اسلامیہ کےخلاف جنگ میں ’امریکی فوجیوں‘ کی تصاویر

یہ تصاویر دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر لی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ تصاویر دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر لی گئی ہیں

شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اگلے محاذوں پر کرد اور عرب جنگجوؤں کے ساتھ امریکہ کمانڈوز کی تصاویر منظرعام پر آئی ہیں۔

خبررساں رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹوگرافر کے مطابق ان فوجیوں کا تعلق امریکی فوج کے خصوصی دستوں سے ہے اور انھیں مقامی کرد جنگجوؤں کے لباس میں دیکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی سپیشل فورسز کے تقریباً 300 فوجی شمالی شام میں تعینات کیے گئے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کے ذمے غیرجنگی کردار میں جنگجوؤں کو تربیت اور رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد میں کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) اور ویمنز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جے) اور امریکہ کی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایف ڈی ایف) شامل ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق امریکی سپیشل فورسز کے تقریباً 300 فوجی شمالی شام میں تعینات ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپینٹاگون کے مطابق امریکی سپیشل فورسز کے تقریباً 300 فوجی شمالی شام میں تعینات ہیں

یہ تصاویر دولت اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر لی گئی ہیں۔

یہ تصاویر ایس ڈی ایف کی جانب سے رقہ کے شمال میں عسکری کارروائی کے روز بعد منظر عام پر آئی ہیں۔

اس زمینی کارروائی میں امریکہ کی سربراہی میں دولت اسلامیہ کے خلاف قائم اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ امریکی سپیشل فورسز کے فوجیوں نے صحافیوں سے بات چیت نہیں کی تاہم وہ اپنے ارد گرد میڈیا کی موجودگی سے چوکس نہیں تھے۔

امریکی فوج نے ان تصاویر پر براہ راست ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ شام میں تقریباً 300 فوجی تربیت اور معاونت کا کردار ادا کر رہے ہیں اور جنگی محاذوں میں حصہ نہیں لے رہے۔

یہ تصاویر ایس ڈی ایف کی جانب سے رقہ کے شمال میں عسکری کارروائی کے جنگ روز بعد منظر عام پر آئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ تصاویر ایس ڈی ایف کی جانب سے رقہ کے شمال میں عسکری کارروائی کے جنگ روز بعد منظر عام پر آئی ہیں

پیٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک کا کہنا تھا کہ یہ عام سی بات ہے کہ امریکی فوجی مقامی پارٹنرز کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔

دوسری جانب یہ تصاویر ترکی کی حکومت کو مزید ناراض کرسکتے ہیں جو پہلے ہی شام میں کرد گروہوں کی امریکی مدد سے سخت ناخوش ہے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کرد گروہوں کے پی کے کے گروہ کے ساتھ تعلق ہے، جسے ترکی، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔