’ترکی کو صدارتی نظام حکومت کی ضرورت ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے صدر طییب اردوغان کے حامی اور ملک کے متوقع نئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی طرف آگے بڑھنے وقت آگیا ہے۔
حکمراں جماعت اے کی پارٹی کی جانب سے رہنما منتخب ہونے سے قبل پارٹی کی کانگریکس سے اپنے خطاب میں بن علی یلدرم نے ملک میں ایک نیا آئین اپنانے پر زور دیا۔
انھوں نے کہ وقت آگیا ہے کہ اب موجودہ : ’اصل صورت حال کو قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے۔‘
ترکی میں سنہ 2014 میں براہ راست صدرارتی انتخابات کے بعد نئے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل ملک کا صدر ارکان پارلیمان کے ووٹ سے منتخب ہوتا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے پارٹی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا: ’ترکی کو نئے آئین کی ضرورت ہے۔ کیا آپ نئی صدارتی طرز کی حکومت لانے کے لیے تیار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
انہوں نے مزید کہا: ’اب ہماری جو ترجیح ہونی چاہیے وہ یہ ہو کہ موجودہ ڈی فیکٹو صورت حال سے آگے نکل کر اسے قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
یوروپی یونین کے ساتھ ترکی کی رکنیت کے سوال پر مسٹر بن علی یلدرم نے کہا کہ یورپی یونین کو بس ایک ہی چیز کرنے کی ضرورت ہے۔
’یہ ترکی کو مکمل رکنیت دینے سے متعلق کنفیوژن اور پناہ گزينوں کے مسئلے کو ختم ہونا چاہیے۔ اب ہمارے یہ جاننے کا وقت آگیا ہے کہ آخر یورپی یونین ترکی کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر یلدرم نے کرد ملیشیا اور دولت اسلامیہ کے خلاف جاری اپنی لڑائی کو بھی جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
ترکی کی حکمراں جماعت ’اے کے پارٹی‘ صدر رجب طیب اردوغان کے قریبی ساتھی اور سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ بن علی یلدرم کو جماعت کا نیا سربراہ اور ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کر لیا گيا ہے۔
حال ہی میں سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو صدر اردوغان سے اختلافات پیدا ہونے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
انقرہ میں ہونے والی اے کے پارٹی کی کانگریس میں بن علی واحد امیدوار تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی اہم ذمہ داری ملک میں آئینی اصلاحات کے ذریعے صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہوگا۔
استنبول میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لاؤن بن علی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صدر اردوغان کی پالیسیوں کی حمایت کریں گے جس میں وزیرِاعظم کے اختیارت میں کمی بھی شامل ہے۔
مارک لاؤن کے بقول ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوا تو اردوغان مزید سختی کے ساتھ اپنے مخالفین سے نمٹیں گے۔
اس کے بر عکس صدر اردوغان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان نے عام لوگوں کو سیاسی شعور اور آواز دی ہے اس لیے صدر کے عہدے کے اختیارات میں اضافہ کرنا درست اقدام ہوگا۔
خیال رہے کہ صدر طیب رجب اردوغان سے اختلافات کی اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد سابق وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگے تھے۔
اطلاعات کے مطابق داؤد اوغلو نے اردوغان کی طرف سے صدر کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز کی بھی مخالفت کی تھی۔
تاہم اپنی تقریر میں داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ وہ صدر اردوغان کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان کو کسی پر غصہ نہیں ہے۔







