یورپ اپنی راہ لے ہم اپنی: اردوغان کا یورپی یونین کو جواب

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یورپی یونین کو کہا ہے کہ ترکی اپنے شہریوں کے لیے یورپ میں ویزا کے بغیر سفر کی اجازت کے بدلے میں اپنے ملک کے دہشت گردی کے قوانین میں تبدیلی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
رجب طیب اردوغان نے یہ بیان احمد داؤد اوغلو کے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے ایک دن بعد دیا ہے۔ یورپی یونین سے معاہدہ داؤد اوغلو ہی نے طے کیا تھا۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی کو دہشت گردی کی اپنی تشریح کو اور زیادہ واضح کرنا ہو گا اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کے شہریوں کو یورپ میں ویزا کے بغیر سفر کی سہولت دی جائے اور جو دونوں ملکوں کے درمیان تارکین وطن کے بحران کو حل کرنے کے لیے ہونے والے معاہدے کا حصہ تھا۔
تارکین وطن کے بحران کو حل کرنے کے لیے ہونے والے وسیع تر معاہدے کے تحت یونان کے ساحلوں پر پہنچنے والے مہاجرین جن میں شام سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت شامل ہے کو واپس ترکی پہنچایا جائے گا اور اس کے عوض ترکی کو اضافی امداد اور دیگر کئی مراعات دی جائیں گی۔
ترکی کے شہریوں کے لیے ویزا کے بغیر یورپ کے سفر میں شنگن معاہدے کی حدود میں شامل 22 ملکوں میں مختصر عرصے قیام کی اجازت شامل تھی۔
اطلاعات کے مطابق داؤد اوغلو نے اردوغان کی طرف سے صدر کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز کی بھی مخالفت کی تھی۔
اردوغان نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی ضرورت تھی، ان کی کوئی ذاتی ضرورت یا مفاد نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات ہیں کہ صدر طیب رجب اردوغان سے اختلافات کے باعث احمد داؤد اوغلو نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم اپنی تقریر میں داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ وہ صدر اردوغان کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان کو کسی پر غصہ نہیں ہے۔
جسٹس پارٹی کے اجلاس میں نئے وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔
جماعت کی کانگریس کا اجلاس 22 مئی کو رکھا گیا ہے۔ یہ اجلاس وزیر اعظم کی کانگریس کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے ملاقات کے بعد رکھا گیا ہے۔
صدر اردوغان اور وزیر اعظم داؤد اوغلو کے درمیان بدھ کو ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد سے دونوں کے اختلافات کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
وزیر اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صدر اردوغان ترکی میں صدارتی نظام حکومت لانا چاہتے ہیں جبکہ وزیر اعظم اس منصوبے کے خلاف ہیں۔







