برازیل: صدر روسیف کی عدالت سے مواخذہ روکنے کی اپیل

صدر روسیف کا کہنا تھا کہ وہ اپنا نام صاف کروانے کے لیے لڑیں گی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصدر روسیف کا کہنا تھا کہ وہ اپنا نام صاف کروانے کے لیے لڑیں گی

برازیل کی صدر جیلما روسیف نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے خلاف مواخذے کی تحریک کو روک دے۔

صدر روسیف کی جانب سے اپنے خلاف مواخذے کی تحریک پر سینیٹ میں رائے شماری روکنے کے لیے یہ ایک آخری کوشش سینیٹ کے اجلاس سے چند گھنٹوں قبل کی گئی۔

صدر روسیف کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں تعصب اور بے قاعدگیوں کے الزامات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اس قسم کے اقدامات سپریم کورٹ مسترد کر چکی ہے۔

سینیٹ میں اگر اکثریتی ارکان نے صدر روسیف پر باقاعدہ مقدمہ چلانے کے حق میں ووٹ دیا تو صدر روسیف کو 180 روز کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل صدر روسیف کے حامیوں نے کئی شہروں میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے اور آگ لگا کر ٹریفک معطل کر دی جس کی وجہ سے برازیل کے کئی اہم شہروں میں نظام زندگی درہم بھرم ہو گیا۔

کانگریس کے ایوان زیریں کے قائم مقام سپیکر ولدیر مران نے منگل کے روز ایک غیر متوقع قدم اٹھایا جب انھوں نے صدر کے مواخذے کی تحریک پر رائے شماری کرنے کی قرار داد کو چیمبر میں معطل کردیا تھا لیکن پھر 24 گھنٹوں سے کم عرصے میں انھوں نے اپنا فیصلے واپس لے لیا۔

اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ 17 اپریل کو منعقد ہونے والے رائے شماری کانگریس کے قوانین کے منافی تھی۔ ایوان کی بھاری اکثریت نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

صدر روسیف پر بڑھتے ہوئے خسارے کو چھپانے کے لیے سرکاری اکاؤنٹس میں ردو بدل کرنے کے الزامات ہیں جن سے وہ انکار کرتی ہیں۔

سینیٹ میں اکثریتی ارکان کی جانب سے مقدمہ چلانے کے حق میں ووٹ دیے جانے پر صدر کو 180 روز کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAgencia Senado

،تصویر کا کیپشنسینیٹ میں اکثریتی ارکان کی جانب سے مقدمہ چلانے کے حق میں ووٹ دیے جانے پر صدر کو 180 روز کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے

یہ طویل اور متنازع سیاسی عمل ایک اہم موڑ پر آچکا ہے جب برازیل کی سینیٹ کے 81 ممبران کو اب اس معاملے پر ووٹ ڈالنا ہوگا کہ آیا صدر روسیف کے خلاف مواخذے کے مقدمے کی مکمل سماعت کی جائے یا نہیں۔

برازیل کی پہلی خاتون رہنما کا کہنا ہے کہ کانگریس کے ایوان زیریں اور اب سینیٹ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے انھیں اپنے عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک عدالتی بغاوت ہے۔

صدر روسیف کے مواخذے کی جو بھی اصل وجوہات ہوں، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کی بائیں بازو کی ’ورکرز پارٹی‘ انتہائی غیر مقبول ہے۔ برازیل ایک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اور صدر روسیف کی حکومت بدعنوانی کے ایک بہت بڑے سکینڈل میں پھنسی ہوئی ہے۔

صدر روسیف کے حامیوں نے کئی شہروں میں ان کے مواخذے کے خلاف مظاہرے کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر روسیف کے حامیوں نے کئی شہروں میں ان کے مواخذے کے خلاف مظاہرے کیے ہیں

حال ہی میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر روسیف نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ مواخذے کے مقدمے کی صورت میں انھیں معطل کر دیا جائے گا لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنا نام صاف کروانے کے لیے لڑیں گی اور یہ بھی کہ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ اپنی صدارت کے آخری دو سال مکمل کر سکیں۔

برازیل کے اٹارنی جنرل ایڈوارڈو کاردازو نے منگل کو کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو مواخذے کی کارروائی منسوخ اس وجہ سے کر دینی چاہیے کہ یہ سیاسی محرکات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ اس اپیل پر غور کر رہی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ کب سنائےگی۔