برازیل کا ایوانِ زیریں صدر روسیف کے مواخذے کا حامی

،تصویر کا ذریعہAFP
برازیل کے ایوانِ زیریں نے ملک کی صدر جیلما روسیف کا مواخذہ کرنے کی تحریک دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔
صدر روسیف پر بڑھتے ہوئے خسارے کو چھپانے کے لیے سرکاری اکاؤنٹس میں ہیر پھیر کرنے کے الزامات ہیں جن سے وہ انکار کرتی ہیں۔
ان کا مواخذہ کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر اتوار کو برازیلی ایوانِ زیریں میں ووٹنگ ہوئی اور مواخذے کے حامی اس سلسلے میں قرارداد کی منظوری کے لیے درکار 342 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ملک کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی نے صدر روسیف کے مواخذے کے معاملے پر ووٹنگ کے حتمی نتائج آنے سے قبل ہی شکست تسلیم کر لی تھی۔
ایوانِ زیریں میں ورکرز پارٹی کے پارلیمانی رہنما ہوزے گومیرس نے کہا ہے کہ ’یہ لڑائی اب سینیٹ میں جاری رہے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہAntonio Augusto Cmara dos Deputados
برازیلی کانگریس کے ایوانِ زیریں سے اس قرارداد کی منظوری کے بعد اب تمام نظریں ملک کے ایوانِ بالا پر مرکوز ہوں گی جسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ 68 سالہ صدر روسیف کے مواخذے کا عمل شروع کیا جائے یا نہیں۔
ایوانِ زیریں کے برعکس سینیٹ میں صدر روسیف کا مواخذہ کرنے کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوگی اور اس سلسلے میں ووٹنگ مئی کے آغاز میں متوقع ہے۔
امکان ہے کہ سینیٹ صدر روسیف کو چھ ماہ کے لیے معطل کر کے ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کرے گی اور اگر ان پر لگے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انھیں عہدۂ صدارت سے مستقل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سارے عمل کے دوران جیلما روسیف کے پاس اپیل کرنے کے دو مواقع ہیں۔
برازیلین صدر 68 سالہ جیلما روسیف نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مخالفین پر حکومت کا ’تختہ الٹنے‘ کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔







