کرپشن ’برازیل میں کام نکالنے کا طریقہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty
برازیل کے دارالحکومت برازیلیا کے مرکز میں موجود یہ شاپنگ مال آپ کو پسند آ سکتا ہے۔
یہاں تک کے برازیلیا آنے والے شاپنگ کو نا پسند کرنے والے سیاح بھی اس عمارت کی منفرد ڈایزائن کو پسند کریں گے، ایسا لگتا ہے جیسے نیم محراب نما عمارت سڑک پر گر رہی ہے۔ جی ہاں! ایسی ہی عمارتیں برازیل کے دارالحکومت کی جدید تعمیرات کو بیان کرتی ہیں۔
یہ ایک ایسا شہر جو 1950 کی دہائی میں تعمیر ہونا شروع ہوا اور اس کی تعمیرات سے ملکی ترقی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
مجھے اس مال میں ملنے والے ایک مقامی شخص نے وہی کہانی سنائی جو شائد اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ یہ ملک۔
’جب آپ برازیل میں حکومتی ٹھیکہ لینے کے لیے بولی ڈالتے ہیں، تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ ایسا کیا کر سکتے ہیں جس سے ہم اور آپ دونوں فائدے میں رہیں۔ وہ اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ یعنی رشوت۔‘ اُن کی کمپنی سافٹ ویئر بناتی ہے۔ حکومت سے اہم کاروبار لینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے اور اسی طرح انھیں اس صنعت کو خیر آباد کہنا پڑا۔
’میں یہ کھیل نہیں کھیلنا چاہتا تھا لیکن میں جانتا ہوں کہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی کھیل موجود ہوتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے مضبوط ادارے بنائے ہیں۔ فیڈرل پولیس، وفاقی استغاثہ، جو دوسرے ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔‘
برازیل میں بدعنوانی بہت زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق اس کی کڑیاں تو غلامی کے وقت سے جڑتی ہیں۔ یہاں تک برازیل کی پرتگالی زبان میں ایک جملہ بولا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’برازیل میں کام کرنے کا طریقہ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
یہاں مسائل کے حل کے لیے اس جملے کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا جاتا ہے۔ برازیل میں بدعنوانی کے قانون کی بہت بری طرح خلاف ورزی کی گئی ہے۔
حال ہی میں ملک کی پارلیمان نے صدر کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ اُن پر الزام تھا کہ انھوں نے تیل و گیس کی کمپنی میں کرپشن کی ہے۔
گو کہ صدر کی کرپشن کے خلاف آواز اُٹھانے والوں کی اکثریت خود بھی منی لانڈرنگ، فراڈ میں ملوث ہیں۔ اگر ملک میں کرپشن اتنی عام ہو تو ایسے میں کرپشن کے خلاف مہم چلانے والوں کی آواز کہاں سنائی دی جاتی ہے۔
ٹرانپرنسی انٹرنیشنل سے وابستہ فیبیانا آنگلو کا کہنا ہے کہ کئی سیاستدانوں کو تحقیقات کا سامنا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام اب کام کر رہا ہے۔‘
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس نے بذاتِ خود ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات اُٹھائیں ہیں۔
ملک کی پارلیمان میں ’ہیکرز لیب‘ بنائی گئی ہے جہاں ایسے کمپیوٹر پروگرام اور ایپس بنائے جا رہے ہیں جو کرپشن کے رجحانات کا پتہ لگا سکیں۔
سیاست دانوں کے بارے میں معلومات، جیسے اخراجات کی تفصیل دوسرے ذریعوں سے معلومات کی جانچ پڑتال، حکومت کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کے بارے میں معلومات، حکومتی ٹھیکدار کی معلومات آن لائن دی جائیں گی۔
ہیکرز لیب کے بانی اور ڈائریکٹر کرسٹیناو فیری کا کہنا ہے کہ ’برازیل کی حکومت دراصل بہت شفاف ہے۔ اُن کے اخراجات کے بارے میں تمام معلومات آن لائن موجود ہیں۔‘
فیری کہتے ہیں کہ ’برازیل میں ہر ایک جانتا ہے کہ چیزیں کیسی ہیں لیکن ہمارے پاس سزائیں سخت نہیں ہیں۔‘
حالیہ سکینڈل میں چند اہم کاروباری افراد کو لمبی سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن سیاست دانوں کے خلاف مقدمہ چلانا مشکل ہے کیونکہ کانگریس کا رکن ہونے کی وجہ سے وہ قانونی معاملات سے مستشنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ.
درحقیقت سخت گیر موقف رکھنے والوں نے تجویز دی ہے کہ سیاسی دفتر رکھنے والوں کو کسی حد تک یہ تحفظ ہونا چاہیِے۔
کانگریس کے اراکین کے خلاف مقدمہ صرف برازیل کی سپریم کورٹ میں چل سکتا ہے اور اس ادارے میں بھی سیاست بہت زیادہ ہے۔
سیاست دانوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کانگریس ان فوکس پر لوما پولیٹی نے لکھا کہ اگر سیاست دانوں کے خلاف فوجداری کے مقدمات چلائیں جائیں تو شائد کوئی بھی خوش نہ ہو۔
وہ اس حالیہ سکنڈل سے پہلے کانگریس کی رکن کی جانب سے تنازع کو تلاش کر رہے تھے، سنہ 2009 میں ایسے اراکین کے نام سامنے آئے تھے جنھوں نے سرکاری فنڈ سے اپنے خاندانوں کے لیے ایئر ٹکٹس خریدے لیکن سکینڈل بھی اُس وقت سامنے آیا جب وہ اقتدار میں نہیں تھے۔
لوما کہتی ہیں کہ ’یہ افراد صدیوں تک پارلیمنٹ میں رہتے ہیں۔‘
حالیہ سکنڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد وہ بھی اُن افراد میں شامل ہیں جو پرامید ہیں۔ اُن کے خیال میں مزید تحقیقات اور کارروائیاں ہوں گی۔
کانگریس کی عمارت کے سامنے کھڑی لوما کہتی ہیں کہ ’ہمارے معاشرے میں کرپشن کئی برسوں سے پائی جاتی ہے اور لوگ اُس کے عادی ہو گئے ہیں۔‘
اس کے بعد وہ کانگریس کی عمارت میں داخل ہو گئی تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔







