’اسلام جرمنی کا حصہ نہیں‘، اے ڈی ایف کا منشور

،تصویر کا ذریعہGetty
جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے اپنی اسلام مخالف پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔
پارٹی کے اجلاس میں اراکین کی جانب سے پالیسی میں میناروں کی تعمیر، اذان دینے اور پورے چہرے کے نقاب پر پابندیاں شامل کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے اسلام ’جرمنی کا حصہ نہیں ہے۔‘
ایک رکن نے مقامی سطح پر مکالمے کا مطالبہ کیا تاہم اسے دیگر اراکین کی جانب سے شدید الفاظ میں مسترد کر دیا گیا۔
سنیچر کو جرمنی کے شہر سٹٹگرٹ میں دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کے اراکین کو کانفرنس میں جانے سے روکنے کی کوشش کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
ان جھڑپوں کے بعد بائیں بازو کے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
دوسری جانب ہیکرز کی جانب سے اے ڈی ایف کے دو ہزار سے زائد ارکان کے گھر کے پتے ایک بائیں بازو کی ویب سائٹ پر شائع کر دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ اے ڈی ایف کا قیام تین سال قبل عمل میں آیا تھا اور گذشتہ ماہ ہونے والے مقامی انتخابات میں تین ریاستوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ جماعت جرمن جانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے گذشتہ برس ہزاروں تارکینِ وطن کی آمد کو تسلیم کیےجانے والے فیصلے کے خلاف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلے سال کے عام انتخابات سے قبل پارٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مشترکہ منشور پر متفق ہو۔ اس کے لیے تجاویز میں جبری ٹیکس اور یورو سے نکل جانے کی تجاویز شامل ہیں مگر پارٹی کے اندر اس حوالے سے تقسیم نظر آتی ہے۔







