جرمن انتخابات: میرکل کی پناہ گزین پالیسی کا امتحان

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجرمن چانسلر انگیلا میرکل ایک انتخابی جلسے سے خطاب کر رہی ہیں

جرمن شہری تین علاقائی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جنھیں چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے بارے میں پالیسی کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ مہاجرین کی آمد کی مخالف جماعت ’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ (اے ایف ڈی) ان انتخابات میں میرکل کی ’کھلے دروازے‘ حکمت عملی کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

2015 میں جرمنی میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزین داخل ہو چکے ہیں۔

ہفتے کے دن جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی انتخابات کی تیاریاں کیا ہیں تو جرمن چانسلر نے کہا کہ وہ پرامید ہیں۔

عوامی رائے کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میرکل کی جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک پارٹی (سی ڈی یو) ملک کے مشرقی علاقے سیکسنی اینہالٹ میں سب سے بڑی جماعت ہونے کی حیثیت برقرار رکھے گی۔

تاہم اسے ملک کے مغربی علاقے باڈن ورٹیمبرگ میں شکست کا سامنا ہے، جہاں وہ اس وقت سب سے بڑی جماعت ہے۔

اس کے علاوہ رائن لینڈ کے علاقے میں مقابلے کانٹے کا رہنے کی توقع ہے۔

جائزوں کے مطابق اے ایف ڈی کو سیکسنی کے علاقے میں 19 فیصد حمایت حاصل ہے جہاں اس وقت سی ڈی یو اور سوشل ڈیموکریٹوں کی اتحادی حکومت قائم ہے۔

اگر اے ایف ڈی نے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو اتحادیوں کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ایک اور اتحادی کی ضرورت پڑے گی۔

اے ایف ڈی کو جرمنی کی 16 علاقائی پارلیمانوں میں پہلے ہی سے پانچ میں نمائندگی حاصل ہے۔ حالیہ انتخابات انھوں نے اس نعرے پر لڑے ہیں کہ ’سرحدوں کو محفوظ بنا دو‘ اور ’پناہ دینے کا ہنگامہ بند کرو۔‘

جرمن کے نائب چانسلر سگمار گیبریئل نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اے ایف ڈی کی کامیابی سے ان کی حکومت کی پناہ گزینوں کے بارے میں موقف میں تبدیلی نہیں آئے گی۔