جرمنی میں پناہ گزینوں پر حملوں میں اضافہ

گذشتہ برس 11 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد نے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس 11 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد نے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی

جرمنی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کی قیام گاہوں پر حملوں میں سنہ 2014 کے مقابلے میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2015 میں مجموعی طور 1005 پر حملے ہوئے جبکہ سنہ 2014 میں یہ حملے 199 تھے۔

گذشتہ برس 11 لاکھ افراد کی ریکارڈ تعداد نے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے اکثریت شام کے جنگ زدہ علاقوں سے آئے تھے۔ جرمنی کے مقامی حکام کو ان افراد کے لیے رہائش کا انتظام کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جرمنی محفوظ ممالک کی فہرست میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ اس کی جانب پناہ گزینوں کا بہاؤ کم ہو۔

ان ممالک میں مراکش، الجیریا اور تیونس کو شامل کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ پناہ گزینوں کی واپسی آسان بنائی جا سکے۔

گذشتہ برس جرمنی نے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو کم کرنے کے لیے ایسا ہی البانیہ، بوسنیا ہرزیگوینیا اور کوسوو سمیت خطہ بلقان کے کئی ممالک کے ساتھ کیا تھا۔ ان میں سے انتہائی کم درخواستوں کو قبول کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق سب سے زیادہ حملوں کے واقعات شمالی صنعتی ریاست رائن ویسٹ فالیا میں پیش آئے۔

ریاست کے وزیرِ داخلہ رالف جیگر کا کہنا ہے کہ ’تفتیش کاروں نے پناہ گزینوں کے لیے انٹر نیٹ پر تلخ گوئی میں اضافہ دیکھا ہے۔‘

گذشتہ راست بھی پناہ گزینوں کے ایک ہاسٹل پر دست بم پھینکا گیا۔ اس کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار کو ایک ان پھٹا دستی بم بھی ملا۔

یونان کے جزیرے پر اترنے والے ہزاروں پناہ گزین جرمنی میں پناہ کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

جمعرات کو یونانی جزیرے کے قریب ہی کشتی کے ایک حادثے میں 26 پناہ گزین مارے گئے۔ مرنے والوں میں دس بچے بھی شامل تھے۔