یورپ میں تارکینِ وطن کے لیے خواتین سے برتاؤ کی تربیت

یوحنا نے جب ہم جنس پرستی کا ذکر کیا تو پچھلی قطار میں بیٹھے عراقی دبی آواز میں ہنسنے لگے۔
،تصویر کا کیپشنیوحنا نے جب ہم جنس پرستی کا ذکر کیا تو پچھلی قطار میں بیٹھے عراقی دبی آواز میں ہنسنے لگے۔

تارکین وطن کی فن لینڈ میں آمد کا سلسلہ جاری ہے اور انھیں فن لینڈ کی روایات اور خواتین سے برتاؤ سے متعلق تربیت دی جارہی ہے۔

خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کے خطرے کے پیشِ نظر حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ قدامت پرست تہذیب سے آنے والوں کو اندازہ ہو کہ ان کے نئے گھر میں انھیں کیسے رہنا ہے۔

جوہانا ان پرجوش اساتذہ میں سے ایک ہیں جو اپنے انداز سے ایسے شاگردوں کو بھی سبق میں شامل کرتی ہیں جو جھجک محسوس کرتے ہیں۔

وہ اپنی بات کو سمجھانے کے لیے دونوں ہاتھوں سے اشاروں کا استعمال کرتی ہیں اور مشکل باتوں کو اپنی مسکراہٹ سے نرم بنا دیتی ہیں۔

وہ نرمی سے بتاتی ہیں: ’فن لینڈ میں آپ ایک بیوی خرید نہیں سکتے۔ یہاں ایک عورت صرف اس صورت میں آپ کی بیوی بن سکتی ہے جب اس کی مرضی ہوگی کیونکہ یہاں مرد اور عورت برابر ہیں۔‘

حال ہی میں فن لینڈ آنے والے ان کے شاگرد انھیں غور سے سنتے ہیں۔ بعض نوجوان عراقی مرد جو پہلے سے اچھی انگریزی اور مناسب فینش زبان جانتے ہیں اپنے رویےسے معقول لگ رہے ہیں۔

تاہم کئی عمر رسیدہ افراد جوہانا کی باتوں کے عربی ترجمے سننے کے بعد ایک دوسرے کو ابرو اچکا کر دیکھتے ہیں۔ ایک نوجوان چیدہ چیدہ نکات لکھ رہے ہیں جبکہ سر ڈھانپے ایک لڑکی کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ ہے۔

جوہانا مزید گویا ہوئیں: ’لیکن آپ یہاں عورت کے ساتھ ڈسکو جا سکتے ہیں لیکن اگر وہ مختصر لباس پہنے آپ کے انتہائی قریب رقص بھی کر رہی ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ سیکس بھی کرنا چاہتی ہے۔‘

ایک صومالی نوجوان نے یہ سنتے ہی اپنی اونی ٹوپی کانوں پر کھینچ لی اور سر کو تھام لیا گویا اس کا دماغ اس نئی معلومات کو برداشت نہیں کر پایا۔

انھوں نے کافی حیران ہوتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت آزاد خیال ملک ہے۔ ہمارے ملک میں اگر کوئی کسی عورت کے ساتھ سیکس کرتا ہے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔‘ یہ کہہ کر انھوں نے ساتھ بیٹے مالی کے باشندے کا ردِ عمل بھی دیکھا۔

مالی کے باشندے نے بھی گفتگو میں حصہ لیا: ’یہ بہت حیران کن ہے۔ میرے ملک میں عورت کو بھائی یا شوہر کے بغیر باہر جانے کی اجازت نہیں۔‘

جوہانا نے جب ہم جنس پرستی کا ذکر کیا تو پچھلی قطار میں بیٹھے عراقی دبی آواز میں ہنسنے لگے۔

جوہانا نے خبردار کیا کہ یہ اخلاقی تربیتی کلاسیں شاید مزاحیہ لگیں لیکن یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ قدامت پرست معاشروں سے آنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ فن لینڈ کے اپنے اقدار اور راوایات ہیں۔

مرد شاید جان کر حیران ہوں کہ فن لینڈ کے مرد گھر کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور عورتیں ٹیکسی چلاتی ہیں۔ جب سے جوہانا نے اس تربیت کا آغاز کیا ہے کئی خواتین پناہ گزینوں نے ان سے رابطہ کیا اور بتایا کے ان کے شوہر ان کے ساتھ فن لینڈ کے اقدار کے مطابق برتاؤ نہیں کرتے۔

یہاں آنے والے مرد بھی اب جانتے ہیں کہ فن لینڈ کے جرائم سے متعلق قوانین کے مطابق اگر وہ عورت کو نامناسب انداز میں ہاتھ لگاتے ہیں تو اس کی کیا سزا ہوگی۔

ان تربیتی کلاسز کو وزراتِ داخلہ اور پولیس کی حمایت حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنان تربیتی کلاسز کو وزراتِ داخلہ اور پولیس کی حمایت حاصل ہے

یہی وجہ ہے کہ ان تربیتی کلاسز کو وزراتِ داخلہ اور پولیس کی حمایت حاصل ہے۔ گذشتہ موسمِ خزاں میں تین پناہ گزینوں کو فن لینڈ میں ریپ کرنے کے جرم میں سزا دی گئی جبکہ سال نو کی تقریبات کے موقعے پر جنسی استحصال اور ہراس کے متعدد واقعات رپورٹ کیے گئے۔

بتایا گیا کے ایسا کرنے والے مشرق وسطی کے شہری معلوم ہوتے ہیں۔

ہیلسنکی کی ڈپٹی پولیس چیف نے اس معاملے میں عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ’اس بارے میں بات کرنا مشکل ہے لیکن ہمیں سچ بتانا ہوگا۔ عام طور پر ہم واقعے میں ملوث ملزمان کی نسلی شناخت ظاہر نہیں کرتے لیکن ان واقعات میں غیر ملکی نوجوان ملوث تھے۔ ایک عوامی مقام پر لڑکی کو گھیر کر ہراساں کرنا معمول بن گیا ہے۔‘

کوشکیماکی کے ایک سنٹر میں پولیس کی ایک گاڑی کھڑی ہے جہاں جوہانا کی تربیتی کلاسز کی طرز پر تربیت دی جا رہی ہے۔

ایک تنومند عراقی میرے پاس آیا اور پوچھا کے میں تین پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سنٹر میں کیوں آیا ہوں۔ ان کے بقول محض چند مجرموں کی وجہ سے تمام پناہ گزینوں کو خطرناک نہیں سمجھنا چاہیے۔

لیکن فن لینڈ میں صنفی برابری کے بارے میں دی جانے والے اس کلاس کے اختتام پر ایک عراقی شخص نے مجھ سے کہا ’یہاں فن لینڈ میں سب اچھا ہے لیکن جب میرے شادی ہوگی تو میری بیوی گھر سنبھالے گی اور میرے پسند کے کھانے بنائے گی اور وہ یقیناً ڈسکو نہیں جائے گی۔‘