سینڈرز کی مہم میں کام کرنے والے عملے کی چھانٹی

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ میں برنی سینڈرز کے کیمپ نے اہم ریاستوں کے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں ہلیری کلنٹن سے شکست کے بعد صدارتی دوڑ کی مہم میں شامل عملے کی چھانٹی کرنا شروع کر دی ہے۔
ان کے ترجمان نے کہا کہ زیادہ تر پرائمریز ختم ہونے کے بعد ’ہمیں ریاستی اور قومی سطح پر کام کرنے والے عملے کی اب زیادہ ضرورت نہیں رہی۔‘
منگل کے مقابلے کے بعد برنی سینڈرز کی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارت کے لیے نامزدگی کا راستہ تقریباً بند ہو گیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس کے باوجود عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ جون میں ہونے والے کیلیفورنیا پرائمری تک مہم جاری رکھیں گے۔
سینڈرز کی مہم کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر مائیکل برگز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم خود کو کام کے لیے وقف کرنے والے 300 سے زیادہ ارکان کو اپنے ساتھ رکھیں گے جو کیلیفورنیا اور دوسرے مقابلے جیتنے میں ہماری مدد کریں گے۔‘
اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس مہم کے آغاز میں سینڈرز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار کارکن کام کر رہے تھے۔
منگل کو برنی سینڈرز کی مہم کے کیمپ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹک پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے میں زیادہ کردار ادا کرنے میں سرگرم رہیں گے۔
ان کے اس بیان کو زیادہ تر لوگوں نے اس طرح دیکھا کہ اس کا مطلب ہے کہ برنی سینڈرز اپنی مہم کو آمدنی میں عدم مساوات اور وال سٹریٹ میں اصلاحات جیسے اہم مسائل کے فروغ کے حق میں ختم کر رہے ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں یہ مہم کچھ ریاستوں میں جن انڈیانا بھی شامل ہے، جاری رہنے کے بعد ختم ہو جائے گی۔ کچھ جائزوں کے مطابق برنی سینڈرز انڈیانا میں جیت رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینڈرز کی مہم میں فنڈز اکٹھے کرنے کا آپریشن بہت متاثر کن رہا ہے اور لاکھوں ڈالر چھوٹے چھوٹے عطیات کی شکل میں اکٹھے کیے گئے ہیں۔
ورمونٹ کے سینیٹر ہزاروں نئے ووٹر بھی لائے ہیں جن میں نوجوانوں اور آزاد لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
ہلیری کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی کو امید ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے سینڈرز کے فنڈز اکٹھا کرنے والے آپریشن اور ان سے اتحاد کا فائدہ اٹھائے گی۔







