ہلیری چار، ٹرمپ تین ریاستوں میں ’کامیاب‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کی پانچ بڑی ریاستوں میں لاکھوں افراد نے منگل کو ڈیموکریٹک اور رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے ہیں۔
جن ریاستوں میں ووٹنگ ہوئی ان میں فلوریڈا، مزوری، اوہائیو، شمالی کیرولائنا اور الینوئے شامل ہیں اور جہاں چار ریاستوں سے نتائج سامنے آ چکے ہیں، وہیں مزوری میں سخت مقابلہ جاری ہے۔
امریکہ کی ارب پتی کاروباری شخصیت اور رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا سمیت تین ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس کامیابی کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی کے حصول کے سلسلے میں اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی ٹکٹ حاصل کرنے کی مضبوط امیدوار اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن چار ریاستوں فلوریڈا، اوہائیو، الینوئے اور شمالی کیرولائنا میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ نے فلوریڈا میں وہاں کے مقامی سینیٹر اور مخالف امیدوار مارک روبیو کو ہرایا۔ اس شکست کے بعد روبیو نے اپنی مہم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ فلوریڈا کے علاوہ شمالی کیرولائنا اور الینوئے سے بھی جیت گئے ہیں، تاہم اوہائیو جیسی اہم ریاست میں انھیں وہاں کے گورنر جان کیسک کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے، جو کسی بھی ریاست میں کیسک کی پہلی کامیابی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کامیابی حاصل کے بعد کیسک نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ’مواقع کا ماحول‘ پیدا کرنا چاہتے ہیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلوریڈا میں ہیلری کلنٹن نے اپنے حریف برنی سینڈرز کے 33 فیصد ووٹ کے مقابلے میں 65 فیصد ووٹ حاصل لیے ہیں۔ تاہم ان کے حریف برنی سینڈرز نے چار ریاستوں میں شکست کے باوجود میدان نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔
میامی میں فلوریڈا سے سینیٹر مارکو روبیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ریاست سے کامیابی پر مبارکباد دی۔
اپنی مہم سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ ’سیاسی طوفان‘ میں گھرا ہوا ہے، اور ووٹر غصے میں ہیں۔
اسی شہر میں ہلیری کلنٹن نے کامیابی کے بعد اپنے پرجوش خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ‘امریکی مسائل کے حل کے بھوکے ہیں۔‘
انھوں نے طالب علموں کا قرضہ، بچوں کے لیے مناسب دیکھ بھال اور عدم مساوات جیسے مسائل کے حل کا وعدہ کیا۔







