یونان آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی

پناہ گزینوں کا مستقبل واضح نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپناہ گزینوں کا مستقبل واضح نہیں ہے

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کے بعد یونان میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

یونان کے لیزبوس جزیرے میں ہر روز پانچ ہزار سے زائد پناہ گزین آیا کرتے تھے لیکن پیر کو صرف چار پناہ گزین وہاں پہنچے۔ یورپی سرحد کے بند ہونے سے یونان میں 50 ہزار سے زائد پناہ گزین اپنے مستقبل کے بارے میں ہونے والے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔

اینگس کرافرڈ نے ان لوگوں کی صورت حال جاننے کےلیے یونان میں تین مقامات کا جائزہ لیا ہے۔

موریا اور لیزبوس کے بند کیمپ

مِریکل سو رہا ہے۔ وہ مجھے موریا کیمپ کے حالات کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ وہ دروازے کے اردگرد گٹر کی بدبو سے غافل اور پناہ گزینوں کے درمیان اکثر و بیشتر ہونے والے فساد اور دھکم پیل سے لاعلم ہے۔

خوش قسمتی سے منگل کو احتجاجی پناہ گزینوں پر اہلکاروں کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ سے مِریکل محفوظ رہا۔ اسے گھنٹوں تک کھانے کے انتظار میں قطار میں کھڑا ہونا بھی نہیں پڑتا۔

مریکل صرف دس ماہ کا ہے اور اپنے ماں کی کمر سے بندھا ہوا ہے۔

اس کی ماں نے مجھے بتایا کہ ان کا نام بلیسنگ ہے۔ وہ نائجیریا سے تعلق رکھنے والی عیسائی ہیں اور شدت پسند تنظیم بوکوحرام کی وجہ سے وہاں سے نکلیں۔ میرے پاس ان کی داستان کی وضاحت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

بلیسنگ نے کہا کہ انھیں اسلامی شدت پسندوں کی وجہ سے نائجیریا چھوڑنا پڑا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبلیسنگ نے کہا کہ انھیں اسلامی شدت پسندوں کی وجہ سے نائجیریا چھوڑنا پڑا

اب وہ یہاں موریا میں موجود ہیں۔ کسی وقت یہ عارضی پناہ گزین کیمپ ہوا کرتا تھا لیکن یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کے بعد اب یہ حراستی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اندر ہزاروں لوگ موجود ہیں لیکن یہ کیمپ اتنے لوگوں کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ یہ صورت حال یونان کے معاشی بحران اور پناہ گزینوں کے حوالے سے بےبسی کی عکاسی کرتی ہے۔

20 مارچ سے پہلے اور یورپی یونین اور ترکی کے معاہدے کے فوراً بعد آنے والے پناہ گزینوں کو کیمپ سے اندر باہر جانے کی اجازت تو ہے لیکن وہ جزیرہ چھوڑ کر باہر نہیں جا سکتے۔

20 تاریخ کے بعد پہنچنے والے لوگ کیمپ کے اندر ہی بند ہیں اور پناہ کی درخواست کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

کیمپ کے اردگرد خاردار تاروں والی باڑ لگائی گئی ہے۔ کیمپ کے اندر پلاسٹک کی چھتیں اور خیمے موجود ہیں۔ میں ایک آدمی سے ملا جس نے صاف صاف کہا: ’اس کیمپ میں مجھے جان کا خطرہ ہے۔‘

امدادی کارکنوں نے سہولیات کی بنا پر ٹیپے کیمپ کی تعریف کی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں نے سہولیات کی بنا پر ٹیپے کیمپ کی تعریف کی ہے

کھلا کیمپ: کارا ٹیپے، لیزبوس

اس کیمپ سے پانچ منٹ دور ایک اور کیمپ ہے۔ وہاں نہ تو خاردار تاریں لگی ہیں اور نہ ہی گیٹ پہ بھی کوئی اہلکار موجود ہے۔ پہلی چیز جو مجھے دکھائی دی وہ ایک الیکٹرانک بورڈ ہے جس پر یہ پیغام لکھا ہے: ’کیمپ ڈائریکٹر امید کرتے ہیں کہ آپ کی عارضی رہائش خوش گوار رہے۔‘

اقوام متحدہ کی جانب سے دیے گئے خیمے ترتیب سے لگائے گئے ہیں۔ بچے اندر پگڈنڈیوں پر اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ کونسل کی نگرانی میں بنایا گیا یہ کیمپ ان پناہ گزینوں کے لیے ہے جو 20 تاریخ سے پہلے آئے تھے۔

یہ کیمپ بچوں والے خاندانوں، حاملہ عورتیں اور معذور پناہ گزینوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ لوگ کیمپ تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن لیزبوس چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ ایک امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے بہتر کیمپ نہیں دیکھا۔

کیمپ ایک پہاڑ کے اوپر بنایا گیا ہے جہاں تین طرف سے بحیرۂ ایجیئن دکھائی دیتا ہے۔ اور دور کہیں ایک قلعے کے کھنڈرات بھی نظر آتے ہیں۔

یہاں سہولیات شاید بہتر ہوں اور نظارہ بھی، لیکن کیمپ میں رہنے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ آخرکار یہ کھلے آسمان تلے انتظار گاہ ہی تو ہے۔

19 سالہ امایہ یہاں رہتی ہیں جن کا تعلق دمشق سے ہے۔ ان کا باقی خاندان جرمنی میں ہے لیکن وہ ان کے پاس نہیں جا سکتیں۔

16 سالہ عبدل کھانے کے باے میں شکایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب بیمار پڑ رہے ہیں۔ طارق نے مجھے بتایا کہ ایک سمگلر کو پیسے دینے کے بعد اس کے پاس صرف 50 یورو بچے تھے لیکن وہ بھی کل کسی نے چوری کر لیے۔

یونان کے شہریوں نے پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے کئی طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیونان کے شہریوں نے پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے کئی طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں

دا سکواٹ: پلازہ ہوٹل، ایتھنز

ایتھنز کے مرکز سے کچھ ہی دور ایک پلازا ہے جس کی آٹھ منزلیں ہیں۔ یہاں ایک تین ستارہ ہوٹل ہے اس میں 60 سے زائد کمرے ہیں۔ یہاں 140 سے زائد لوگ مقیم ہیں لیکن ان میں سے کسی کو یہاں رہنے کے لیے پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

معاشی بحران سے متاثر ہونے والا یہ ہوٹل دیوالیہ ہونے کی وجہ سے 2010 میں بند کر دیا گیا تھا، لیکن پچھلے جمعے امدادی کارکن اور اس پلازے کے سابق ملازمین نے غیر قانونی طور پر اس کے دروازے دوبارہ کھول کر پناہ گزینوں کا مہمانوں کے طور پر استقبال کیا۔

رضا کار 24 گھنٹے استقبالیہ پر موجود ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ باورچی خانے میں بھی کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں 70 سے زائد بچے بھی رہ رہے ہیں۔ وہاں پہنچ کر پہلی منزل سے قہقہوں اور نغموں کی آواز آ رہی ہے۔

اور داخلی دروازے کے ساتھ ایک شیلف ہے جس میں ایتھنز کے نقشے پڑے پڑے پیلے ہو گئے ہیں اور ان سیاحوں کے انتظار میں ہیں جو کبھی نہیں آئے۔