میانمار کی نئی کابینہ میں آنگ سان سوچی بھی شامل

میانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سو چی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمیانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سو چی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں

میانمار میں نئی حکومت میں شامل وزرا کی جو فہرست جاری کی گئی ہے اس میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی رہنما آن سان سوچی کا نام بھی شامل ہے۔

این ایل ڈی نے گذشتہ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔

نئے صدر ہیٹن کیاو نے 18 کابینہ کے وزرا پر مشتمل جو فہرست پارلیمان کو بھیجی ہے اس میں آن سان سوچی کا نام بھی شامل ہے۔

اس فہرست میں صرف وزرا کے نام دیے گئے ہیں لیکن کس کو کون سی وزارت ملے گی اس کی تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

یانگون میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناہ فشر کا کہنا ہے کہ آن سان سوچی وزارت خارجہ، توانائی، تعلیم اور صدراتی دفتر جیسی وزارتوں کو سنبھالیں گی۔

آنگ سان سوچی نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی حیثیت صدر سے بھی بالاتر ہوگی جس سے یہ تاثر ملا تھا کہ شاید وہ حکومت میں شامل نہ ہو کر پارٹی کی رہنما کی حیثیت سے اقتدار پر کنٹرول کریں گی۔

وزرا کی جو لسٹ جاری کی گئی ہے اس میں ان کے علاوہ کسی اور خاتون کا نام شامل نہیں ہے۔

نئے منتخب ہونے والے صدر ہیٹن کیاو محترمہ سوچی کے بہت قریبی ساتھی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننئے منتخب ہونے والے صدر ہیٹن کیاو محترمہ سوچی کے بہت قریبی ساتھی ہیں

میانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں کیونکہ آئین میں درج ہے کہ غیر ملکی بچوں کے والدین ملک کے صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ آنگ سو چی کے شوہر برطانوی شہریت کے حامل تھے اور ان کے بچے بھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ میانمار کے آئین میں یہ شق سوچی کو عہدۂ صدارت سے دور رکھنے کے لیے ہی شامل کی گئی تھی۔

نئے منتخب ہونے والے صدر ہیٹن کیاو آن سان سوچی کے بہت قریبی ساتھی ہیں۔گذشتہ ہفتے میانمار کی پارلیمان نے آنگ سان سوچی کے قریبی ساتھی ہیٹن کیاو کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا تھا۔

آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے نومبر میں ملک میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اب پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس کی اکثریت ہے۔

عام انتخابات کے بعد کئی ہفتے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود این ایل ڈی فوج کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہی کہ اس شق کو منسوخ یا معطل کر دیا جائے تاکہ آنگ سان سوچی کو صدارت کے لیے نامزد کیا جا سکے۔