میانمار میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والی پارلیمان کے کام شروع کرنے کے بعد ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنآنگ سانگ سوچی اکثریت رکھنے کے باوجود ملک کی صدر منتخب نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے بچوں کی شہریت میانمار کی نہیں ہے
،تصویر کا کیپشن50 سال بعد میانمار میں منتخب ہونے والی آزاد پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے موقعے پر روایتی لباس میں ملبوس فنکاروں نے رقص کیا
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار میانمار کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی سے منتخب ہونے والے پارلیمنٹ کے ارکان کو دارالحکومت ’نیپیڈا‘ میں واقع پارلیمنٹ کی جانب حفاظت سے لے کر جاتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنیکم فروری کو آنگ سان سوچی کی جماعت کے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی دور شروع ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنمیانمار کے پارلیمان کے اراکین دارالحکومت نیپیڈا میں اپنے پہلے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنسیاسی جماعت ’لیسو نیشنل ڈویلپمینٹ‘ سے ایک نسلی ’لیسو‘ رکن نمائندے رواتی لباس میں