آنگ سوچی صدر بن سکیں گی؟

سوچی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکئی لوگوں کا خیال ہے کہ آئین میں یہ شق سوچی کو عہدہ صدارت سے دور رکھنے کے لیے ہی شامل کی گئی تھی

میانمار میں نئے صدر کا انتخاب مقررہ تاریخ سے ایک ہفتے قبل ہی دس مارچ کو کرلیا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد اس بحث کو ختم کرنا ہے کہ کیا آنگ سان سوچی کو صدارت کا عہدہ دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے یا نہیں۔

سو چی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی ( این ایل ڈی) نے نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی تھی اور یہ پارٹی اس ماہ کے آخر تک ملک کا اقتدار سنبھال لے گی۔

لیکن میانمار کے آئین کے تحت آنگ سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں کیونکہ آئین میں درج ہے کہ غیر ملکی بچوں کے والدین ملک کے صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ آنگ سو چی کے شوہر برطانوی شہریت کے حامل تھے اور ان کے بچے بھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

تاہم سوچی نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ ملک کی باگ ڈور موثر طریقے سے سنبھالیں گی۔

سوچی اور فوج کے کمانڈر ان چیف کے درمیان مذاکرات ابھی تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسوچی اور فوج کے کمانڈر ان چیف کے درمیان مذاکرات ابھی تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ آئین میں یہ شق سوچی کو عہدہ صدارت سے دور رکھنے کے لیے ہی شامل کی گئی تھی۔

ملک کے نئے صدر کے لیے اراکینِ پارلیمنٹ نے تین امیدواروں کو نامزد کیا ہے۔ صدارت کے لیے حتمی نام کا اعلان مقننہ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں ووٹنگ کے بعد کیا جائے گا۔

انتخابات کی پہلی تاریخ 17 مارچ مقرر کی گئی تھی لیکن خیال ہے کہ یہ مہلت این ایل ڈی فوج کے ساتھ مذاکرات کرکے آئین میں ترمیم یا اس شق کو معطل کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

لیکن رنگون میں موجود بی بی سی کے نمائندے جونا فشر کا کہنا ہے کہ آنگ سوچی اور فوج کے کمانڈر ان چیف کے درمیان مذاکرات ابھی تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انتخابات کی تاریخ کو ایک ہفتہ پہلے کرنے سے بات چیت کے مزید دروازوں کو بند کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔

این ایل ڈی نومبر کے انتخابات میں تقریباً اسی فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد پارلیمٹ کے دونوں ایوانوں کی نمائندہ جماعت بن گئی ہے۔ لیکن فوج جو میانمار میں گزشتہ 25 سالوں سے حکومت کررہی ہے ابھی بھی 25 فیصد نشستوں پر اختیار رکھتی ہے۔

این ایل ڈی کے ایک رکن ون ہتین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی پارٹی اب حکومت کے آنے کے بعد آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کرے گی۔