سو چی کے قریبی ساتھی میانمار کے صدر منتخب

،تصویر کا ذریعہAFP
میانمار کی پارلیمان نے آنگ سان سو چی کے قریبی ساتھی ہیٹن کیاو کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔
وہ 50 سے زیادہ برس میں ملک کی قیادت کرنے والے پہلے سویلین صدر ہوں گے۔
وہ موجودہ صدر تھین سین کی جگہ لے گا جو پانچ برس کے بعد رواں ماہ کے آخر میں یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔
ارکانِ پارلیمان نے منگل کو صدر کے عہدے کے لیے تین افراد میں سے انتخاب کیا جن کے نام ایوانِ بالا، ایوانِ زیریں اور فوج کی جانب سے تجویز کیے گئے تھے۔
ہیٹن نے انتخاب کے دوران ڈالے گئے 652 ووٹوں میں سے360 ووٹ حاصل کیے۔
دوسرے نمبر پر فوج کے نامزد کردہ مینت سوے رہے جبھوں نے 213 ووٹ لیے جبکہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے ہی دوسرے امیدوار 79 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
اب یہ دونوں ملک کے نائب صدور کے عہدے سنبھالیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے نومبر میں ملک میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی اور اب پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس کی اکثریت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میانمار کے آئین کے تحت آنگ سان سو چی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں کیونکہ آئین میں درج ہے کہ غیر ملکی بچوں کے والدین ملک کے صدر کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ آنگ سو چی کے شوہر برطانوی شہریت کے حامل تھے اور ان کے بچے بھی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ میانمار کے آئین میں یہ شق سوچی کو عہدۂ صدارت سے دور رکھنے کے لیے ہی شامل کی گئی تھی۔
عام انتخابات کے بعد کئی ہفتے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود این ایل ڈی فوج کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہی کہ اس شق کو منسوخ یا معطل کر دیا جائے تاکہ آنگ سان سو چی کو صدارت کے لیے نامزد کیا جا سکے۔
تاہم سو چی یہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ ان کی حیثیت ’صدر سے بالا تر ہوگی۔‘







