پناہ گزینوں کی یورپ آمد کو محدود کرنے کے لیے اجلاس

،تصویر کا ذریعہGetty
یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرا تارکین وطن کے بحران سے یورپی ممالک کو درپیش خطرات کے حوالے سے برسلز میں ملاقات رہے ہیں۔
<link type="page"><caption> ’یونان کو انسانی روحوں کا گودام نہیں بننے دیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/02/160224_austria_balkan_migrants_numbers_zs" platform="highweb"/></link>
بلقان کی ریاستوں نے تارکین وطن کی تعداد کو محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ یونان کی جانب سے اِس پر تنقید کی جارہی ہے، جہاں مقدونیا کی جانب سے افغان باشندوں کے لیے داخلہ بند ہونے کے بعد سے ہزاروں افراد بے یارو مددگار پھنسے ہوئے ہیں۔
اسی دوران ہنگری نے بھی تارکین وطن کے لازمی کوٹے پر ریفرینڈم کرانے کا اعلان کردیا ہے۔
رواں برس اب تک ایک لاکھ سے زیادہ پناہ گزین یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔
برسلز میں ہونے والی ملاقات میں یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ کو آسٹریا اور آٹھ بلقان ممالک کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ پر بریفنگ دی جائے گی، جس میں تمام آنے والوں کے انگلیوں کے نشانات لینے اور پاسپورٹ کے بغیر یا جعلی دستاویزات پر یورپ میں داخل ہونے والوں کو واپس بھیجنا شامل ہے۔
اِن ممالک نے اِس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف اُن تارکین وطن کو قبول کریں گے جن کو تحفظ کی ضرورت ہوگی۔ کچھ ممالک پہلے ہی اِس بات کی وضاحت شامی اور عراقی شہریوں کی صورت میں کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
آسٹریا کی وزیر داخلہ جوہانا مِک لائٹنر نے اِن اقدامات کو ’مقصد کے تحت ردعمل‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اِس پر قابو نہیں پایا گیا تو یورپی یونین کی بقا خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن یونان کی جانب سے اِس منصوبے پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ یونان خبردار کیا ہے کہ اگر دیگر اراکین کی جانب سے پناہ گزینوں کے کوٹے پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ تو وہ مستقبل میں پناہ گزینوں کے حوالے سے ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں، تمام فیصلوں کی مخالفت کرے گا۔
یونان کے وزیر اعظم ایلیکسس تسیپراس کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک ’انسانوں کے مستقل گودام‘ میں تبدیل ہوچکا ہے اور اِس مسئلے سے تنہا نمٹا نہیں جاسکتا ہے۔
تسیپراس کا کہنا ہے کہ ’اگر رکن ممالک تارکین وطن کے بوجھ اور ذمہ داریوں کو برابر سے تقسیم نہیں کرتے ہیں، تو اب سے یونان کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ ستمبر میں یورپی یونین کے وزرا نے اٹلی، یونان اور ہنگری سے ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزین دیگر ممالک منتقل کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔
لیکن رومانیہ، چیک ریپبلک، سلواکیہ اور ہنگری کی جانب سے اِس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔
ہنگری کی جانب سے بدھ کو اعلان کیا گیا ہے کہ وہ یورپ کے پناہ گزین کوٹے کو قبول کرنے پر ریفرینڈم کرائے گا۔
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن نے زور دیا ہے کہ کوٹے سے ’یورپ کا ثقافتی اور مذہبی تشخص دوبارہ سے بدل سکتا ہے۔‘
ریفرینڈم موسم خزاں میں منعقد ہونے کا امکان ہے، لیکن یہ پارلیمان کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ اِس سے سال اب تک تقریباً ایک لاکھ پناہ گزین یونان اور اٹلی میں داخل ہوئے ہیں۔
آئی او ایم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِسی عرصے کے دوران 400 سے زائد پناہ گزین دورانِ سفر ہلاک ہوئے ہیں۔







