’پناہ گزین بچی کو نورو کمیپ بھیج دیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کے متعلق ایک تنازعے کا مرکز رہنے والی بچی کو ہسپتال سے فرصت دے دی گئی ہے اور اب وہ کمیونیٹی حراست میں ہے۔
لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ آشا نامی بچی کو صحت یاب ہو جانے کے بعد آسٹریلیا کے ساحل سے دور نورو کیمپ روانہ کردیا جائے گا۔
قبل از ایں اس ایک سالہ پناہ گزین بچی کو ملک بدری سے بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے اسے ہسپتال سے فارغ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ جب تک اس بچی کے رہنے کے لیے مناسب گھریلو ماحول کا انتظام نہیں ہو جاتا اسے ہسپتال سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔
برزبین کے شہر میں واقع لیڈی سیلینٹو ہسپتال سے بچی کو فارغ نہ کرنے کے فیصلے کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ہپستال کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔
سیاسی پناہ کے متلاشی ماں باپ کی اس بچی کو تارکینِ وطن کے لیے نورو جزائر پر قائم کیمپ میں جھلس جانے کے باعث شدید زخم آئے تھے۔
اب آشا اپنی ماں اور رشتے داروں کے ساتھ کمیونٹی حراست میں رہے گي۔ ان کی نگرانی کے لیے امیگریشن اہلکار کو رکھا گيا ہے اور ان کی نقل وحمل کو محدود کر دیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امیگریشن کے وزیر پیٹر ڈیوٹن نے کہا کہ جب اس کے متعلق مسائل حل ہو جائیں گے تو اسے نورو کمیپ روانہ کر دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اے بی سی کو بتایا: ’ہم لوگوں کی سمگلنگ کرنے والوں کو یہ پیغام نہیں دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کسی طرح آسٹریلیا کے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں تو آپ کو آسٹریلیائی شہریت مل جائے گي۔
’میں اس سے زیادہ واضح انداز میں کوئي بات نہیں کہہ سکتی کہ ایک بار آپ کو طبی امداد دے دی گئی اور قانونی مسئلے حل ہو گئے تو پھر آپ کو واپس نورو بھیج دیا جائے گا۔‘
مسٹر ڈیوٹن نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ فیصلہ مظاہرے کے نتیجے میں کیا گیا ہے اور کہا کہ انھوں نے پہلے سے ہی یہ فیصلہ کر رکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن پناہ گزینوں کی حمایت کرنے والوں نے آشا کو کمیونیٹی حراست میں بھیجے جانے کو سراہتے ہوئے اسے حکومت کی سخت پالیسی کے خلاف جیت سے تعبیر کیا ہے۔
فروری میں ہائی کورٹ نے آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے کے متعلق پالیسی کو ملک میں آئین کی رو سے قانونی بنا دیا تھا جس کے سبب 37 بچوں سمیت 267 لوگوں کے نورو کیمپ بھیجنے کا راستہ تیار ہو گيا تھا۔
خیال رہے کہ نورو جزائر پر قائم حراستی مرکز میں تقریباً 500 تارکینِ وطن رہائش پذیر ہیں۔







