دہشتگردی کےملزم نے’کینگرو بم‘ کا ذکر کیا

،تصویر کا ذریعہ9 news
آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک نوجوان لڑکے نے مبینہ طور پر ایک منصوبہ بنایا تھا جس میں اس نے ایک کینگرو میں بارود نصب کر کے اس پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا نشان پینٹ کرنا تھا اور پھر کینگرو کو پولیس کی جانب چھوڑ دینا تھا۔
19 سالہ سودیت رمادان بیسم نے دہشتگردی کے چار الزامات کی تردید کی تھی جس کے بعد ان کے مقدمے کی سماعت شروع کی گئی۔
سودیت پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے ’انزاک ڈے‘ پر میلبرن میں ایک پولیس افسر پر اپنی گاڑی چلانے کے بعد اس کا سر قلم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
سودیت رمادان بیسم ان پانچ نوجوان لڑکوں میں سے ایک تھے جنھیں گذشتہ سال اپریل میں پولیس کے چھاپوں کے دوران حراست میں لیاگیا تھا۔
استغاثہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ سودیت نے ایک بیرونی ملک میں مقیم نوجوان لڑکے سے رابطہ کر کے اس کے ساتھ اپنے حملے کے بارے میں گفتگو کی تھی۔
سودیت نے مبینہ طور پر لکھا کہ: ’میں کچھ پولیس افسروں کو مارنا چاہوں گا۔‘
نوجوان لڑکے پر یہ بھی الزام عائد ہے کہ اس نے ایک دہشت گردہ حملہ کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر متعلقہ ویب سائٹس تلاش کیں، مواصلات قائم کیے اور ایک یاداشت بھی بنائی۔
ان کے خلاف دہشتگردی کے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام اب واپس لے لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے ایک دستاویز کا حوالہ دیا جو استغاثہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جس میں ’کینگرو بم‘ کے بارے میں مبینہ گفتگو کی تفصیل لکھی ہوئی تھی۔
دستاویز کے مطابق:’سودیت اپنی گفتگو میں آسٹریلیا کے جانورں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک کینگرو میں ایک ’سی فور‘ بارود نصب کیا جا سکتا ہے، اس پر دولت اسلامیہ کا نشان پینٹ کیا جا سکتا ہے اور پھر جانور کو پولیس افسروں پر چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔‘
’انزاک ڈے‘ تنازعات میں ہلاک ہونے والے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے اہلکاروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔







