دولتِ اسلامیہ امیر ترین دہشت گرد تنظیم

دولتِ اسلامیہ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندولتِ اسلامیہ کی کل آمدنی دو ارب امریکی ڈالر ہے

امریکی خبر رساں ادارے فوربز میگزین نے دنیا بھر میں کام کرنے والی ’دس امیر ترین‘ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست شائع کی ہے۔ جس میں تنظیموں کی آمدنی کے حساب سے اُن کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

میگزین کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم دنیا کی ’امیر ترین دہشت گرد تنظیم‘ ہے، جس کی سالانہ آمدنی دو ارب امریکی ڈالر ہے۔ لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اِس تنظیم کی آمدنی تین ارب امریکی ڈالر ہے۔

فلسطین کے شہر غزہ اور غربِ اُردن میں فعال جنگجو تنظیم حماس کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق اِس تنظیم کی آمدنی ایک ارب امریکی ڈالر ہے۔ اِس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ٹیکس اور فیس کے علاوہ مالی تعاون بھی ہے۔

اِس فہرست میں تیسرا نمبر فارک کا ہے، جس کی سالانہ آمدنی 60 کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ کولمبیا کی مسلح انقلابی فورسز کو فارک کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اِس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ منشیات کی کاشت اور سمگلنگ سے حاصل ہوتا ہے۔

فارک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآمدنی کے لحاظ سے کولمبیا کی مسلح انقلابی تنظیم فارک تیسرے نمبر پر آتی ہے

لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور اِس کی سالانہ آمدنی 50 کروڑ امریکی ڈالر ظاہر کی گئی ہے۔ اِس جنگجو تنظیم کی آمدنی کے اہم ذرائع میں ایران سے مالی تعاون، منشیات کی کاشت اور اُس کی سمگلنگ شامل ہے۔

فہرست میں پانچویں نمبر پر طالبان کو شامل کیا گیا ہے، جن کی سالانہ آمدنی 40 کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ افغانستان کے علاوہ یہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں۔ اِس کی آمدنی عطیات، ٹیکس، فیس اور منشیات کی سمگلنگ شامل ہے۔

فہرست میں چھٹا نمبر القاعدہ ہے، اس تنظیم کی سالانہ آمدنی 15 کروڑ امریکی ڈالر ہے اور اِس کو سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اِس تنظیم کی آمدنی کے ذرائع میں مالی تعاون، عطیات، اغوا برائے تاوان اور منشیات کی سمگلنگ شامل ہے۔

اِس فہرست میں ساتواں نمبر لشکر طیبہ کو دیا گیا ہے، یہ تنظیم جنوبی ایشیا میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اِس کی سالانہ آمدنی دس کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی میں مالی تعاون اور عطیات شامل ہیں۔

بوکو حرام

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنبوکو حرام مغربی تعلیمات کو گناہ تصور کرتی ہے

صومالیہ کی جنگجو تنظیم الشباب کو آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اِس تنظیم کا قیام سنہ 2006 میں عمل میں آیا تھا۔ اِس کی آمدنی سات کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے اور آمدنی کی ذرائع کے طور پر اغوا برائے تاوان اور غیرقانونی تجارت وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے۔

شمالی آئرلینڈ کی جنگجو تنظیم ریئل آئی آر اے جو کہ آئرش رپبلکن آرمی کا منحرف دستہ ہے، اِس تنظیم کو نویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اِس تنظیم کا قیام سنہ 1998 میں عمل میں آیا تھا۔ اِس تنظیم کی آمدنی پانچ کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی کے ذرائع میں سمگلنگ، عطیات اور غیر قانونی تجارت شامل ہیں۔

فوربز میگزین کی اِس فہرست میں دسویں نمبر پر نائجیریا میں سرگرم جنگجو تنظیم بوکو حرام کو رکھا گیا ہے۔ یہ تنظیم مغربی تعلیمات کو گناہ تصور کرتی ہے اور اِس کی سالانہ آمدنی ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اِس کی آمدنی کے ذرائع میں اغوا برائے تاوان، فیس اور ٹیکس، ڈاکے اور لوٹ مار وغیرہ شامل ہے۔