نیوادا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آسان جیت

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوادا ریاست میں با آسانی کامیابی حاصل کر لی ہے اور انھوں نے اپنی دعویداری کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔
اس طرح انھیں نیوہیمپ شائر اور ساؤتھ کیرولینا کے بعد لگاتار تیسری جیت حاصل ہوئی ہے۔
سینیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز جو ایک دوسرے پر اس ہفتے تنقید کرتے رہے وہ دوسرے نمبر کے لیے مقابلہ کرتے نظر آئے۔
پارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈبل ووٹنگ اور ایک کاکس میں بیلٹ کی کمی کے معاملے میں جانچ کر رہے ہیں۔
بعض رضاکاروں نے مسٹر ٹرمپ کی حمایت میں کپڑے پہن رکھے تھے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ ضابطے کے خلاف ورزی نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو 46 فی صد سے زیادہ ووٹ ملے جبکہ مارکو روبیو کو تقریباً 23 فی صد اور ٹیڈ کروز کو تقریباً 20 فی صد ووٹ ملے۔
لاس ویگس میں ٹرمپ کے کیمپ میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی جب امریکی نیٹ ورک پر ارب پتی امیدوار کی جیت کے رجحانات سامنے آنے لگے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے شمالی امریکہ میں نمائندہ اینتھونی زرچر جو لاس ویگس کے ویسٹر ہائی سکول میں تھے انھوں نے کہا کہ ووٹنگ غیر منظم تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ووٹنگ تاخیر سے شروع ہوئي، لوگوں کی لمبی قطاریں تھیں، لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ انھیں کہاں ووٹ دینا ہے اور بیلٹ کی حفاظت کا بھی اچھا انتظام نہیں تھا۔ بہر حال ووٹنگ میں بدعنوانی کے شواہد نظر نہیں آئے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس امیدواروں میں ہلیری کلنٹن نے اپنے حریف برنی سینڈرس کو پانچ فی صد ووٹ سے شکست دی ہے اور اب دونوں سنیچر کو ہونے والے ساؤتھ کیرولینا کے بلیک ووٹ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
یہ پرائمری اور کاکس کے جو ووٹ ہو رہے ہیں اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگا کہ کس پارٹی کی جانب سے کون نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دونوں اہم پارٹیوں کی نمائندگی کرے گا۔







