نیو ہیمپشائر میں سینڈرز اور ٹرمپ کی جیت

امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے انتخاب کا مقابلہ بالترتیب سینیٹر برنی سینڈرز اور ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے جیت لیا ہے۔
ریاست میں زیادہ تر مقامات پر پولنگ مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام سات بجے (رات 12 بجے جی ایم ٹی) ختم ہوگئی تھی اور حتمی نتائج آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہیں۔
نیو ہیمپشائر آئیووا کے بعد دوسری امریکی ریاست ہے جہاں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
آئیووا میں ان دونوں ہی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم اس مرتبہ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار بننے کے خواہشمند سینڈرز اپنی حریف اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔
برنی سینڈرز نیو ہیمپشائر کی پڑوسی ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ریاست میں سینڈرز کی جیت کی ہی پیشنگوئی کی جا رہی تھی۔
ووٹوں کی ابتدائی گنتی میں انھیں ہلیری کلنٹن پر واضح برتری حاصل رہی۔ آئیووا میں بھی برنی اور ہلیری کے مابین سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تھا اور ہلیری بمشکل جیت پائی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
فتح کے واضح آثار سامنے آنے کے بعد برنی سینڈرز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو فتح ہمارا مقدر بنتی ہے۔ ہم جیت گئے۔ نیو ہیمپشائر! تمہارا شکریہ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی مخالف ہلیری کلنٹن نے شکست تسلیم کرتے ہوئے برنی کو مبارکباد دی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مہم کے دوران ہر ایک ووٹ کے حصول کے لیے مقابلہ کرتی رہیں گی۔
ڈیموکریٹ امیدوار کے انتخاب کے برعکس ری پبلکن صدارتی امیدوار کے انتخاب کے سلسلے میں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تاہم اس دوڑ میں پیش پیش ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار اپنی عوامی حمایت کو ووٹوں کی شکل دینے میں کامیاب رہے۔
نیو ہیمپشائر میں اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے نہ صرف اپنے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا بلکہ ڈیموکریٹ امیدوار برنی سینڈرز کو بھی مبارکباد دی۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کاکس میں اوہایو کے گوربر جان کیسچ دوسرے نمبر پر رہے ہیں جبکہ فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش اور آئیووا کاکس کے فاتح ٹیڈ کروز کے درمیان تیسری پوزیشن کے لیے مقابلہ رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیوہیمپشائر میں تمام امیدواروں کا بہت کچھ داؤ پر لگا تھا۔ ان کے مطابق ہرچند کہ یہ ریاست چھوٹی ہے لیکن ابتدائی طور پر یہاں سے جیت حاصل کرنے پر انھیں آگے مزید تحریک ملے گي۔
آنے والے مہینوں میں امریکہ کی تمام ریاستیں اپنی اپنی پارٹیوں کے نمائندوں کی حمایت کریں گی اور پھر جولائی میں پارٹی کے اجلاس میں حتمی امیدوار کا فیصلہ ہوگا جو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔







