صدارتی امیدواروں کے فیصلے کے لیے نیوہیمپشائر تیار

نیو ہیمپشائر امیدواروں کے انتخاب کے لیے تیار ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننیو ہیمپشائر امیدواروں کے انتخاب کے لیے تیار ہے

امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کی جانب سے صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے اہم مرحلے کی تیاریاں پوری ہو چکی ہیں۔

رپبلکن پارٹی کی جانب سے امیدواری کی دوڑ میں پیش پیش ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ آئیووا کے مقابلے یہاں بہتر نتائج کی امید کر رہے ہیں۔ آئیووا میں سینیٹر ٹیڈ کروز کو فتح حاصل ہوئي تھی۔

جبکہ ڈیموکریٹس میں کانٹے کا مقابلہ برنی سینڈرز اور ہلیری کلنٹن کے درمیان ہے۔

ڈکسی ویل نوچ نامی ایک چھوٹے قصبے نے آدھی رات کو پہلا ووٹ برنی سینڈرس اور جان کیسچ کے حق میں ڈالا۔

نیوہیمپشائر کے ریاستی قانون کے مطابق سو سے کم آبادی والے قصبے اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے نصف شب کو درخواست دے سکتے ہیں اور جب سب ووٹر ووٹ ڈال دیں تو ووٹنگ بند کر دی جائے۔

ڈکسی ویل نوچ کے گنتی کے ووٹروں میں چار نے سینڈرز کے حق میں ووٹ دیا، دو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جبکہ تین نے اوہائیو کے گورنر جان کیسچ کو پسند کیا۔

ہلیری کلنٹن کو آیووا میں بمشکل جیت حاصل ہوئي تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہلیری کلنٹن کو آیووا میں بمشکل جیت حاصل ہوئي تھی

مسٹر سینڈرز پڑوسی ورمونٹ ریاست سے تعلق رکھتے ہیں اور خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہتے ہیں۔ انھیں نیو ہیمپشائر میں ہلیری کلنٹن پر برتری کی امید ہے۔

ہلیری کلنٹن جنھیں ڈیموکریٹک نظام کی حمایت حاصل ہے، وہ آئیووا میں بمشکل جیت پائی تھیں۔

مانچسٹر میں پیر کو ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلیری کلنٹن نے کہا: ’جو لوگ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے ہیں، ابھی تک گومگو کی حالت میں ہیں، مجھے امید ہے کہ میں ان کے لیے بہتر انتخاب ہوں۔‘

دریں اثنا مسٹر سینڈرز نے اپنے پرجوش حامیوں سے کہا: ’ہم لوگوں نے گذشتہ نو مہینوں کے دوران ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جسے ہم حاصل نہیں کر سکتے۔‘

ڈکسی ولے نوچ میں روایتا نصف شب کو ووٹ ڈالے گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈکسی ولے نوچ میں روایتا نصف شب کو ووٹ ڈالے گئے

دوسری جانب رپبلکن کے صدارتی امیدواروں کی دوڑ منقسم رہی ہے اور بہت سے امیدواروں نے فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ روبیو آئیووا میں مضبوطی کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئے تھے۔

نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی نے روبیو پر ’ناتجربہ کار‘ ہونے کا الزام لگایا۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور فلوریڈا کے گورنر جیب بش نے بھی انھیں نشانہ بنایا ہے۔

پیر کو ٹرمپ نے دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کے سخت طریقۂ کار کی حمایت کرتے ہوئے واٹربورڈنگ تکنیک کو واپس لانے اور اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ طریقوں کو اپنانے کی قسم کھائی۔

مسٹر کروز جو انجیلی کنزرویٹو ہیں اور ٹیکسس سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے آئیووا کاکسز میں اپنی جیت کو ’زمین سے جڑے لوگوں کی جیت‘ کہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں سے تفتیش کے سخت اقدامات کی حمایت کی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں سے تفتیش کے سخت اقدامات کی حمایت کی ہے

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیوہیمپشائر پر تمام امیدواروں کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ ہر چند کہ یہ ریاست چھوٹی ہے لیکن ابتدائی طور پر یہاں سے جیت حاصل کرنے پر انھیں آگے مزید تحریک ملے گي۔

آنے والے مہینوں میں امریکہ کی تمام ریاستیں اپنی اپنی پارٹیوں کے نمائندوں کی حمایت کریں گی اور پھر جولائی میں پارٹی کے اجلاس میں ان کا فیصلہ ہوگا۔ جیتنے والے امیدوار نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مد مقابل ہوں گے۔