ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیڈ کروز پر دھاندلی کا الزام

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیڈ کروز نے آئیووا میں جیت حاصل نہیں کی ہے بلکہ چُرائی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیڈ کروز نے آئیووا میں جیت حاصل نہیں کی ہے بلکہ چُرائی ہے

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا میں ہونے والے جماعتی انتخابات دوبارہ کروانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

انھوں نے اپنے مخالف امیدوار ٹیڈ کروز پر اس چناؤ میں دھوکہ دہی کا الزام بھی لگایا ہے۔

امریکہ میں کسی کاکس کے دوبارہ انعقاد کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئیووا کاکس کے دوران کُروز کی انتخابی مہم چلانے والوں نے ووٹرز سے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے ایک اور صدارتی امیدوار بین کارسن نے خود کو صدارتی امیدوار کی دوڑ سے الگ کر لیا ہے جو کہ سچ نہیں تھا۔

کُروز کی انتخابی مہم کی ٹیم نے بین کارسن سے معذرت کر لی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ایسا غلط فہمی کی وجہ سے ہوا تھا۔

کارسن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ سے باہر ہونے کی افواہ پر ٹیڈ کُروز کی معذرت تو تسلیم کر لی ہے تاہم ان کی ٹیم کی جانب سے اسے ’گندی چالوں‘ کی حکمت عملی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے اندر امیدواروں کے درمیان ریاستی سطح پر جماعت کے اندر ہونے والے پہلے انتخابات میں ٹرمپ دوسرے نمبر پر آئے ہیں۔

اگلی باری نیو ہیمپشائر کی ہے جہاں منگل کو ریپبلکن پارٹی کے حامی اپنے صدارتی امیدوار کا انتخاب کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ٹیڈ کروز نے آئیووا میں جیت حاصل نہیں کی ہے بلکہ چُرائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رائے شماری کے تمام اعدادوشمار اتنے غلط تھے اور انھیں توقع سے کہیں زیادہ ووٹ ملے تھے۔ یہ غلط ہوا!‘

اس سے قبل ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر پہلے تو لکھا کہ کُروز نے کاکس ’ناجائز‘ طریقے سے جیتا ہے تاہم بعد میں انھوں نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی۔

دوسری جانب کُروز کی جانب سے ان کی انتخابی مہم پر لگائے جانے والے الزامات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیاگیا ہے۔

ٹیڈ کُروز کے کمیونی کیشن ڈائریکٹر رِک ٹیلر نے سیاست سے متعلق امریکی صحافتی ادارے پولیٹکو کو ایک ای میل میں لکھا ہے کہ ’ریئیلٹی سٹار کو حقیقت نے اپنی مار ماری ہے۔ انھیں آئیووا میں شکست ہوئی ہے اور اب ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے وہ ٹوئٹر پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

’ٹوئٹر کے عادی افراد کے لیے مدد کرنے والے لوگ موجود ہیں، شاید انھیں مقامی سطح پر ایسا مددگار گروہ مل جائے۔‘