صدارتی امیدواروں کا آج پہلا امتحان، ٹرمپ اور ہلیری کو سبقت

- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکہ میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں اپنے اپنے امیدوار طے کرنے کی مہم کا پیر سے رسمی طور پر آغاز آئیووا ریاست میں کر رہی ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران دونوں ہی پارٹیوں کے دعویداروں نے اس ریاست کے 350 سے زیادہ چکر لگائے ہیں اور آخری لمحے تک مختلف مقامات پر ریلیاں کر رہے ہیں۔
اپنی قابلیت کی سند کے طور پر ریپبلکن پارٹی کی امیدواری حاصل کرنے کی کوشش میں ارب پتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کو لے کر آئے ہیں۔
سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے شوہر بل کلنٹن اور ان کی بیٹی چیلسی بھی انتخابی مہم میں شامل ہیں۔
کبھی فرنٹ رنر خیال کیے جانے والے بش خاندان کے دوسرے چراغ، جیب بش نے ووٹروں کو لبھانے کے لیے یہاں برگر بنائے۔ ٹیڈ کروز بندوق سے اپنی محبت ظاہر کرنے کے لیے چڑیوں کے شکار پر گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
مہینوں کی محنت کے بعد آج سب کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔
اس ریاست کی آبادی بمشکل 30 لاکھ ہے اور یہاں کی ہار جیت کسی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرتی۔
لیکن امریکہ میں صدارتی انتخابات کا آغاز اسی ریاست سے ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئیووا کے رہائشی کسی حد تک اتنی اہمیت ملنے پر خوش بھی ہیں اور اسے ایک ذمہ داری کا کام سمجھتے ہیں۔ وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ٹی وی پر مسلسل چلنے والے اشتہارات اور فون پر ہونے والے پروموشن سے تنگ بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
رپبلكن امیدواروں میں یہاں فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیڈ کروز کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے ریپبلکن ووٹروں کے ایک خاص طبقے کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کبھی میكسیكو کو کوسا ہے تو کبھی مسلمانوں کو۔
پہلے تو انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر روک لگانے کی بات کی، بعد میں تمام مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی بات کہی۔
کروز کبھی عیسائیت پر خطرے کا حوالہ دے کر تو کبھی ٹرمپ کو ڈیموکریٹس کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے امیدواری پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں نظر آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یہاں تیسرے نمبر پر مارکو روبيو نظر آ رہے ہیں اور اگر ان کی کارکردگی اچھی رہتی ہے یعنی اگر وہ کم فرق سے ہارتے ہیں تو بعض حلقوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے امکانات مزید بہتر ہو سکتے ہیں۔
پہلے ایسا نظر آ رہا تھا کہ ڈیموکریٹس میں ہلیری کلنٹن کے لیے میدان بالکل صاف ہے لیکن سنہ 2008 کی طرح ہی ایک بار پھر انھیں یہاں سخت ٹکر مل رہی ہے اور وہ بھی ایک بالکل ہی غیر معروف امیدوار برنی سینڈرز سے۔
سینڈرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے انتہائی بائیں بازو کے طبقے کو لبھانے کی کوشش کی ہے۔ کافی حد تک ان کی تقاریر میں وہی جوش نظر آ رہا ہے جو سنہ 2008 میں براک اوباما کے تقریروں میں ہوتا تھا۔ ان کی ریلیوں میں نوجوانوں کی خاصی تعداد نظر آتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اگر موسم نے ساتھ دیا اور نئے ووٹرز باہر نکلے تو ڈیموکریٹس کی طرف سے برنی سینڈرز کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ فی الحال سروے میں بہت کم فرق سے ہی سہی لیکن ہلیری کلنٹن آگے نظر آ رہی ہیں۔







