سارا پیلن کا ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا اعلان

سیاست کے الگ ہونے کے باوجود سارا پیلن کو اہم سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسیاست کے الگ ہونے کے باوجود سارا پیلن کو اہم سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے

امریکہ میں ریاست الاسکا کی سابق گورنر سارا پیلن نے رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سارا پیلن سنہ 2008 کے انتخابات میں رپبکن پارٹی کی نائب صدارتی امیدوار بھی تھیں۔

<link type="page"><caption> ٹرمپ مسلمانوں پر پابندی کے موقف پر قائم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160103_trump_alshabab_response_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’دولت اسلامیہ کا سر کاٹ دیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160104_trump_election_tvc_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’مسلمان خاتون سے ٹرمپ معافی مانگیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160110_cair_ask_trump_apology_from_muslim_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

آئیووا میں ایک دوران کے دوران انھوں نے اپنے حمایتوں سے سوال کیا ’کیا آپ ٹرمپ کی حمایت کے لیے تیار ہیں؟‘

سارا پیلن نے جان میک کین کے ہمراہ سنہ 2008 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم انھوں براک اوباما کے مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔

سیاست کے الگ ہونے کے باوجود سارا پیلن کو اہم سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایسے شخص ہیں جو امریکی افواج کو خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کو مار بھگانے میں کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔‘

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف جاری کردہ بیان میں سارا پیلن کی حمایت کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھیں سارا پیلن کی حمایت پر ’فخر‘ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سارا پالن کی حمایت کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP AFP

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ نے سارا پالن کی حمایت کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے

خیال رہے کہ سارا پیلن کو الاسکا کے گورنر کا عہدہ سنبھالے ابھی دو سال ہی ہوئے تھے کہ جان میک کین کی جانب سے انھیں اپنا انتخابی ساتھی منتخب کیا گیا تھا۔

انتخابات کے بعد سنہ 2009 میں انھوں نے الاسکا کی گورنرشپ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور بطور مصنف اور سیاسی تجزیہ کار اپنے کریئر کا انتخاب کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے اعلان کے بعد سارا پیلن نے اپنی بیٹی برسٹل کا ایک مضمون ٹوئٹر پر شیئر کیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے آئیووا میں سب سے بڑے حریف ٹیڈ کروز کا تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آئیووا کے ووٹر پہلی بار نامزدگی کی دوڑ میں حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

دوسری جانب ٹیڈ کروز سارا پیلن کی تعریف ان الفاظ میں کر چکے ہیں کہ ’ان کی مدد کے بغیر میں سینیٹ میں نہ ہوتا۔‘

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’وہ سنہ 2016 میں جو کچھ بھی کرتی ہیں اس سے قطع نظر میں ان کا سب سے بڑا مداح رہوں گا۔‘