’پیرس جرمنی میں ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کا مذاق اڑانے والے افراد کچھ غلط سمجھ رہے ہوں؟
امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ نے سب کو حیران کر دیا ہے۔
<link type="page"><caption> جرمنی میں سال نو پر خواتین پر حملوں کے خلاف مظاہرے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160106_germany_cologne_attacks_protest_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> چارلی ایبڈو حملے کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک اور حملہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160107_paris_police_attack_killed_zh.shtml" platform="highweb"/></link>
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک شخص کی ہلاکت کے حوالے سے ایک پیغام ٹوئٹر پر شائع کیا گیا جس میں ’جرمنی بری حالت میں ہے‘ کا جملہ بھی شامل تھا، اور ایک گھنٹے اندر اندر ہی ’جرمنی پیرس میں ہے‘ کی اصطلاح ٹوئٹر پر دنیا بھر میں سرفہرست ٹرینڈ کرنے لگی۔

،تصویر کا ذریعہrealDonaldTrump
آپ یہ کنفیوژن سمجھ سکتے ہیں۔ پہلی نظر میں اس پر تبصرہ کرنے والے بیشتر افراد نے بظاہر یہ سمجھا کہ ٹرمپ یورپ کے جغرافیے کو گڈمڈ کر بیٹھے ہیں۔ لیکن کیا امریکہ کا وزیراعظم بننے کا خواہشمندر واقعی یہ سمجھتا ہے کہ فرانس کا دارالحکومت پیرس جرمنی میں ہے؟
برطانیہ اور یورپ سے تعلق رکھنے والے تبصرہ کرنے والوں نے ایسا ہی سمجھا۔
ایک شخص کا کہنا تھا: ’دنیا کی موجودہ صوتحال: امریکہ واقعی اس شخص کو منتخب کرنے جا رہا ہے جو سمجھتا ہے کہ پیرس جرمنی میں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہRhonddaBryant
’امریکی لوگو، سمارٹ بنو، ایسے بے وقوف کو ووٹ نہ دو جو سمجھتا ہے کہ پیرس جرمنی میں ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹ کے دو گھنٹے بعد تک یہ جملہ دس ہزار مرتبہ استعمال کیا گیا۔
لیکن کیا ٹرمپ نے واقعی یورپ کی دو بڑی طاقتوں کو آپس میں گڈمڈ کر دیا؟
بہت سے دیگر افراد بھی اس بحث میں شامل ہوگئے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ناقدین ہیں جنھوں نے دونوں کو ملا دیا ہے۔
ایک صارف نے لکھا: ’میرے خیال میں صرف میں ہی سمجھ سکا ہوں کہ وہ پیرس جرمنی میں ہے نہیں کہنا چاہ رہے تھے، وہ دو مختلف واقعات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہscottreid1980
بہت سے افراد نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایک ہی ٹویٹ میں دو باتیں کر رہے ہیں، اور یہ کہ تیسرے جملے میں وہ نئے سال کے آغاز پر جرمنی کے شہر کولون میں ہونے والے جنسی تشدد کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
جلد ہی یہ بحث بڑھتی چلی گئی اور ایک موقع ایسا بھی آیا کہ یہ تفریق مشکل ہوگئی کہ کون سنجیدہ بات کر رہا ہے اور کون مذاق۔ تاہم بلاشبہ اس حوالے سے مزاح زیادہ رہا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی پوسٹ کے بعد مزید ٹویٹس بھی کیے تاہم انھیں ہزاروں کی تعداد میں تبصرے نہ مل سکے۔

،تصویر کا ذریعہTossedUK







