ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ملک شیک کا ڈر!

ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے متنازع بیانات پر تنقید کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے متنازع بیانات پر تنقید کا سامنا ہے
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن

بھارت میں لالو پرساد يادوجي نے برسوں پہلے جب کہا تھا کہ بہار کی سڑکیں ہیما مالنی کے گال کی طرح چکنی ہو جائیں گی تو ہر اخبار نے چٹکی لے لے کر خبر شائع کی تھی۔

تنقید کچھ خاص نہیں ہوئی تھی اور اسے زمین سے جڑے ایک رہنما کا مزاحیہ بیان کہہ کر ٹال دیا گیا تھا۔ لالوجي کی سیاست پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

امریکہ میں جب ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی اکھاڑے میں کودے تو ان کے بہت سے بیانات کو یہاں کی رپبلكن پارٹی نے بھی ابتدا میں کچھ اسی انداز میں ٹال دیا کہ وہ ایک خاص طبقے کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

اندر سے توقع یہ تھی کہ یہ ارب پتی کچھ دن سیاست سیاست کھیلنے کے بعد بور ہو جائے گا اور اس طرح کے بیان اسے لے ڈوبیں گے۔ لیکن اب رپبلكن پارٹی کی حالت یہ ہے کہ جن بوتل سے باہر نکل گیا ہے اور اسے واپس بند کرنے کا کوئی بھی فارمولا کام نہیں کر رہا ہے۔

اس طرح کے بیانات سے ہنگامہ تو خوب مچتا ہے لیکن ٹرمپ کی درجہ بندی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ یہی ایک لیڈر ہے جو بغیر لگی لپٹی کے بولتا ہے۔

ایک بحث کے دوران ٹرمپ سے فوکس ٹی وی، جو رپبلكن پارٹی کا کنگ میکر چینل کہلاتا ہے، کی معروف اینکر میگن کیلی نے پوچھا کہ آپ ہلیری کلنٹن کے خلاف کس طرح ٹک پائیں گے جب خواتين کے لیے آپ نے غیر اخلاتی الفاظ کا استعمال کیا ہے تو پہلے تو وہ کیلی پر لائیو ٹی وی میں ہی برس پڑے اور پھر اگلے دن دوسرے انٹرویو میں کیلی کے بارے میں کہا ’اس عورت کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا نہ جانے کہاں کہاں سے خون نکل رہا تھا۔‘

 آج بہت سے لوگوں کو فوکس ٹی وی چینل اور میگن کیلی کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن آج بہت سے لوگوں کو فوکس ٹی وی چینل اور میگن کیلی کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے

اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ٹرمپ نے آئیووا میں ہونے والے انتخابات سے عین قبل ہونے والے فوکس ٹی وی کی بحث میں شرکت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ اگر میگن کیلی اینکر ہوں گی تو وہ شامل نہیں ہوں گے۔

حد تو یہ ہے کہ انہوں نے کیلی کی پرانی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بمبو‘خواتين کے حق کی بات کرتی ہے اور ایسی تصاویر كھنچواتي ہے، یہ صدارتی امیدوار سے کیا سوال پوچھے گي؟

دی نیویارکر میگزین نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کی وجہ سے یہ دن آ گئے ہیں کہ آج بہت سے لوگوں کو فوکس ٹی وی چینل اور میگن کیلی کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے۔ میں دفتر کی لفٹ میں تھا تو اندر لگے ٹی وی پر ٹکر چلا کہ ٹرمپ بحث میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔

ساتھ میں کھڑی ایک خاتون نے کہا کہ یہ انسان اس سکول کے ضدی بچے کی طرح برتاؤ کر رہا ہے جو کہتا ہے کہ میں اس فلاں لڑکی سے بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ مجھے پسند نہیں کرتی ہے۔

فوکس ٹی وی کے کچھ بزرگوں نے انہیں سمجھا بھی اس طرح سے رہے تھے جیسے کسی ضدی بچے کو سمجھایا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہا کہ میں جو آپ کو ملک شیک پلاتا رہا ہوں وہ بند کر دوں گا۔

جب یہی ضدی بچہ اوباما کو مسلمان کہتا تھا، ان کی امریکہ میں پیدائش پر شک کرتا تھا تو پارٹی کے رہنما اور اس چینل کے کرتا دھرتا نیم مسکراہٹ کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اب جب یہ بچہ ان سے بھی بڑا ہوتا نظر آ رہا ہے، تو اس کی حرکتوں سے پریشان ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

دیکھا جائے تو ٹرمپ نے وہی باتیں اکّھڑ انداز میں کہی ہیں جو ان کی پارٹی کے لوگ اور فوکس چینل بھی زرا چاشنی لگا کر پیش کرتے رہے ہیں۔

پارٹی کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ میکسیکو سے آنے والے لوگوں پر روک لگانی چاہیے، ٹرمپ نے کہا کہ سرحد پر دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔

پارٹی کے لیڈر کہتے رہے ہیں کہ مسلمانوں پر نظر رکھی جانی چاہئے، ٹرمپ صاحب کا سیدھا سا حل ہے مسلمانوں کے امریکہ میں گھسنے پر ہی روک لگا دو۔

ان کے حامی رپبلكن پارٹی کا ایسا چہرہ پیش کر رہے ہیں جو صرف سنہرے بالوں والا ہے، کالج کی ڈگری نہیں لی ہے، ہر دوسرے مذہب، خاص طور سے اسلام کا کٹّر دشمن ہے، باہر سے یہاں آکر آباد لوگوں کے خلاف ہے اور پارٹی کو ڈر ستا رہا کہ یہ چہرہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کبھی نہیں جیت سکتا۔

اس ہفتے ٹرمپ کی ریلی میں اڈیل کا ایک نغمہ بجایا جا رہا تھا۔’there's a fire starting in my heart‘اب ہر گزرتے دن کے ساتھ رپبلكن پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ٹرمپ کی یہ آگ ملک شیک انڈیلنے سے تو نہیں بجھنے والی۔