’دوسرا ڈبّہ دیکھ لیں، یہاں جگہ نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, برجیش اُپادھیائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

مسافروں سے کھچا کھچ بھرے پلیٹ فارم پر پہلے سے ہی کافی حد تک بھری ہوئی ایک ٹرین پہنچتی ہے جس کے ایک ڈبّے میں کچھ جگہ خالی ہے۔

ایک ہاتھ میں جعلی وی آئی پی کے اٹیچی، دوسرے میں اپنی چھوٹی سی بچی کی انگلياں تھامے، پیچھے پیچھے چاندنی چوک سے خریدی گئی چمکیلی ساڑی میں لپٹی اور ایک بھاری گٹھری لیے ہوئے اپنی بیوی کو آنکھوں سے ہی دھکا دیتے ہوئے آپ اس ڈبے کی طرف بھاگتے ہیں۔

پہلے سے ڈبے میں بیٹھے لوگوں نے اندر سے کنڈی لگا رکھی ہے۔ آپ گڑگڑاتے ہیں، منّت سماجت کرتے ہیں۔ ارے بھیّا دروازہ کھول دو، چھوٹی بچی ہے ساتھ میں، جانا بہت ضروری ہے۔

اندر چل رہی تاش کی بازی کے درمیان سے کوئی سر اٹھاتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔ دوسرا ڈبہ دیکھ لیں۔

آپ اور گڑ گڑاتے ہیں، انسانیت کا حواالہ دیتے ہیں، بچی چیخ رہی ہے، بیوی پرنم آنکھوں سے ہاتھ جوڑ کر دروازہ کھولنے کی منّتیں کر رہی ہے۔ ٹرین بھی چلنے کو ہے آخر ایک شخص کو ترس آتا ہے کنڈی کھول دیتا ہے۔

اب آپ ڈبے کے اندر ہیں۔ ٹرین چل پڑی ہے اور آپ ایڈجسٹ ہوچکے ہیں۔ تھوڑی دیر میں اگلا سٹیشن آتا ہے۔ آپ جیسا ہی ایک اور خاندان ڈبّے کی طرف بھاگ رہا ہے۔

باہر سے وہ خاندان مميا رہا ہے۔۔۔ آپ دروازے پر جاتے ہیں۔۔۔ کنڈی اندر سے بند کر لیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں۔۔۔ دوسرا ڈبّہ دیکھ لیں، یہاں جگہ نہیں ہے۔

امریکی انتخابات کی رپورٹنگ کے دوران کئی بار یہاں آ کر آباد اپنے دیسیوں سے یا پھر عرب ممالک سے آنے والے لوگوں سے بھی بات کرتا ہوں تو یہ یہی منظر جو میں نے دکھایا اسی کی جھلک نظر آنے لگتی ہے۔

حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا

ایک مسجد میں جاتا ہوں، بحث ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں پر روک لگانے کی بات سے شروع ہوتی ہے سب ایک سر میں ٹرمپ کو گالياں دیتے ہیں۔

پھر پوچھتا ہوں کہ میکسیکو سے روزی روٹی کی تلاش میں جو لوگ یہاں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان کو روکنے کے لیے بڑی سی دیوار بنانے کی جو بات ٹرمپ کر رہے ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ایک صاحب فوراً کہتے ہیں ’ٹرمپ کی یہ پالیسی درست ہے۔ یہ لوگ غلط طریقے سے یہاں گھس آئے ہیں اور بہت گند پھیلا رہے ہیں۔ اگر انھیں ایسے ہی داخل ہونے دیا گیا تو امریکہ کا بیڑا غرق ہو جائے گا۔‘

مسجد کے بعد ایک اور دیسی صاحب سے ملاقات ہوئی جو کافی محنت کے بعد یہاں پاؤں جما سکے ہیں۔

کہتے ہیں ’ آپ میڈیا والے بیچارے کو ولن بنا رہے ہیں۔ اس كے بیانات کو نمک مرچ لگا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہہ رہا ہے کہ جب تک ہم یہ سمجھ نہ لیں کہ امریکی مسلمان دولت اسلامیہ اور دوسری ایسی شدت پسند گرہوں کے لیے کیا سوچ رکھتے ہیں تب تک باہر سے آنے والے دیگر مسلمانوں پر روک لگنی چاہیے۔ اس میں کیا غلط ہے؟‘

ایک تیسرے صاحب ملے جو سوڈان سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں، کافی اچھے عہدے پر ہیں، پنج وقت نمازی بھی ہیں۔

ان کی بات مانیں تو یورپ اور امریکہ دونوں ہی کو شام، عراق اور افغانستان سے نقل مکانی کرنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دینے چاہیں کیونکہ حل اسي سے ہی نکلے گا۔

کہنے لگے ’اسلامی دنیا میں ایک زبردست اتھل پتھل کی ضرورت ہے تبھی حالات بدلیں گے۔ خون خرابہ تو ہوگا لیکن ایک بہتر معاشرہ بھی بنےگا۔ ہم لوگوں کو اس سے دور رہنا چاہیے۔‘

اپنے نئے مسکن اور پرانی جڑوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا کئی بار ان کی مجبوری ہوجاتی ہے
،تصویر کا کیپشناپنے نئے مسکن اور پرانی جڑوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا کئی بار ان کی مجبوری ہوجاتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ان ملکوں سے آ نے والے یہ مسلمان یہاں رہنے والے مسلمانوں کا نام خراب کریں گے اور ان کے لیے خطرہ پیدا کریں گے۔

ان کا ’ہم لوگوں‘ کہنا بھی ٹرین کے ڈبے کے اندر کا سین دہرا گیا۔ میرے دماغ میں پھر سے اسی پراژدھام پلیٹ فارم کا منظر چھا گیا۔

میں نے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے سوال کیا: ’آپ برسوں پہلے آ گئے تھے۔ اگر نہیں آئے ہوتے، اپنے بال بچوں کے ساتھ انہی ملکوں میں رہ رہے ہوتے اور آج جیسی نوبت آتی تب بھی آپ یہی بات کہہ پاتے؟ کیا آپ انھیں اس اتھل پتھل کا حصہ بننے دیتے یا پھر ان کی جان بچانے کے لیے وہاں سے انہیں لے کر بھاگتے؟‘

اس سوال پر وہ تھوڑے ناراض سے ہو گئے۔

آپ انہیں غلط مت سمجھیں۔ آپ ہی کی طرح یہ سب بھی انتہائی اچھے لوگ ہیں۔ اپنی محنت اور لگن کے بل پر وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ اور اگر آپ ڈبے میں داخل ہوگئے تو آپ کی مدد بھی کریں گے۔

اپنے نئے مسکن اور پرانی جڑوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا کئی بار ان کی مجبوری ہوجاتی ہے۔ اپنے نئے گھر کو ہی جڑ کی طرح پکڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن پانی پر تیرتی گھاس کی طرح ہواؤں کے رخ کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔