’امریکیوں کو مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں امریکہ کی سکیورٹی اور دہشت گردی کے علاوہ بہت سے داخلی اور خارجی امور پر روشنی ڈالی۔
سکیورٹی کے معاملے پر زور دیتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ اور دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہیں۔
انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور ’دولت اسلامیہ‘ دونوں کی جانب سے براہ راست خطرات ہیں کیونکہ مٹھی بھر دہشت گرد جن کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے وہ بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بہر حال انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کی جانب سے جہاں تیسری جنگ عظیم کی بات کی جارہی ہے اس سے امریکہ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔
انھوں اپنی تقریر کے دوران صحت کے میدان میں اپنی ٹیم کی کارکردگی ، کیوبا کے ساتھ تعلقات استوار اور گوانتانامو بے جیل کو بند کرنے کا ذکر کیا۔
انھوں نے کہا: ’ہم اس چیمبر سے اپنے آخری خطاب میں صرف آنے والے سال کی بات نہیں کریں گے بلکہ ہم مستقبل پر نظر ڈالنا چاہیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے خطاب کے آغاز میں انھوں نے معاشی صورتحال، روزگار، دہشت گردی، بندوق سے پھیلنے والے تشدد اور آئندہ انتخابات پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو مستقبل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ہر اس سیاست کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر نشانہ بناتی ہے۔‘
’مجھے تبدیلی میں یقین ہے کیونکہ مجھے آپ میں یقین ہے، امریکی عوام میں یقین ہے۔ اسی لیے میں یہاں پر اعتماد طور پر کھڑا ہوں کہ ہماری ریاستیں مضبوط ہیں۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کو غیرمعمولی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اسے مواقع کو دیکھنا چاہیے اس سے وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا تھا کہ ان کے دورِ حکومت کے گذشتہ سات سال میں امریکہ کو بدترین معاشی بحران سے باہر نکلا اور صحت کی سہولیات میں اصلاحات لائی گئیں۔
براک اوباما نے کہا کہ امریکہ کی ہر ریاست میں اپنے من پسند شخص سے شادی کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔
انھوں نے اپنے خطاب کے دوران مثبت اور خوش آئند لہجہ برقرار رکھا اور حالیہ صدارتی دوڑ کے منفی لہجے کو پس پشت ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے مضبوط اور دیر پا معیشت ہے۔
انھوں نے ماحولیات کی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا: ’اگر اب بھی آپ ماحولیات کی تبدیلی کے متعلق سائنس کو جھٹلانا چاہتے ہیں تو آپ تنہا ہوں گے کیونکہ آپ ہماری افواج، امریکہ کے زیادہ تر بزنس رہنماؤں، امریکیوں کی اکثریت، تمام سائنسی برادری اور دنیا بھر میں پھیلے دو سو ممالک کے خلاف ہوں گے جو اس بات پر رضامند ہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور اس کا حل ضروری ہے۔‘







