اوباما کا آخری خطاب، کیا کھویا کیا پایا

منگل کے روز اوباما آٹھویں اور آخری بار کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز اوباما آٹھویں اور آخری بار کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں

امریکی صدر براک اوباما منگل کے روز اپنا آٹھواں اور آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب کریں گے۔ دیگر اہم نکات کے ساتھ کانگریس سے اس خطاب کے دوران امریکہ کی گذشتہ سال کی کارکردگی پر بھی نظر ڈالی جائے گی۔

یہاں ان چند خاص تبدیلیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو صدر اوباما کے سنہ 2009 میں کانگریس میں پہلے خطاب کے بعد رونما ہوئی ہیں۔

افغانستان جنگ

آنے والے دنوں میں جہاں دولت اسلامیہ کے تنازعے کے باعث عراق میں ایک بار پھر امریکی مداخلت کا خطرہ موجود ہے، وہیں صدر اوباما کے پہلی بار اپنا منصب سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں شدید اضافہ اور کمی، دونوں ہی دیکھنے میں آئی ہیں۔ اور یہ اضافہ اور کمی اوباما انتظامیہ کی ’دی سرج‘ نامی پالیسی کا نتیجہ تھی، جس کے تحت وہاں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب صدر اوباما اپنی اُس اصل پالیسی سے پیچھے ہٹتے نظر آئے جس کے تحت سنہ 2015 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی لا کر انھیں ایک ہزار فوجیوں تک محدود کر دینا تھا۔ ان ایک ہزار فوجیوں کی موجودگی کا مقصد امریکی سفارت خانے کی حفاظت اور افغان افواج کو تربیت فراہم کرنا تھا۔

اوباما کے دور میں امریکی افواج کی افغانستان میں شمولیت بتدریج کم ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناوباما کے دور میں امریکی افواج کی افغانستان میں شمولیت بتدریج کم ہوئی ہے

آئندہ سال سنہ 2017 میں جب صدر اوباما اپنے عہدے سے الگ ہو رہے ہوں گے تو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار کے قریب ہو گی۔

بے روزگاری

سابق صدر جارج بش کے دورِ صدارت کے آخری مہینوں میں شروع ہونے والی کسادبازاری کی بہت بڑی لہر نے جہاں امریکی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچایا تھا، وہیں اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی صدر اوباما کی صدارت کے پہلے دو سالوں میں جاری رہی تھی۔ سنہ 2009 میں بےروزگاری کی سطح بڑھ کر دس فیصد تک آگئی تھی۔

بے روزگاری کا تناسب بتدریـج کم ہوتا ہوا امریکہ کی معمول کی سطح پر آگیا ہے۔ سنہ 2015 کے اختتامی سہ ماہی میں یہ سطح پانچ فیصد رہی ہے۔

بازار حصص

سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا

جس وقت براک اوباما نے صدارتی دفتر میں قدم رکھا اس وقت امریکی بازار حصص اور مجموعی طور پر امریکی معیشت انتہائی تنزلی کا شکار تھی۔ تاہم ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج اور نیسڈیک انڈیکس سنہ 2008 اور 2009 کے بڑے بڑے خساروں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امریکی بازار حصص میں اتارچڑھاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مثال کے طور پر گذشتہ سال کی ڈرامائی مندی کی صورت حال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پیٹرول کی قیمتیں

گذشتہ دو سالوں میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو امریکہ بھر میں اب اوسطاً دو ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔ حالیہ قیمتیں مئی سنہ 2011 میں صدر اوباما کے دور صدارت میں پیٹرول کی قیمت کی اونچی ترین سطح 3.97 ڈالر فی گیلن سے کم ہوکر واپس پہلے کی سطح پرآگئی ہیں۔

صدر کی مقبولیت کی ریٹنگ

اوباما کی مقبولیت کی ریٹنگ کلنٹن سے کم لیکن جارج ڈبلیو بش سے زیادہ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty IMAGES

،تصویر کا کیپشناوباما کی مقبولیت کی ریٹنگ کلنٹن سے کم لیکن جارج ڈبلیو بش سے زیادہ رہی ہے

صدر اوباما صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد چند ہفتوں تک امریکہ میں انتہائی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جا رہے تھے جو زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ تاہم ابتدائی جھٹکے کے بعد سے ہفتہ وار ریٹنگ میں صدر اوباما کی مقبولیت کی سطح 40 فیصد سے 50 فیصد کے درمیان ہی رہی ہے۔

درجہ بندی کے حساب سے مقبولیت کی فہرست میں ملک کے 44ویں صدر اوباما کو سابق صدور رونالڈ ریگن اور لنڈن جانسن کے درمیان جگہ ملی ہے۔ صدارت کےانھی آخری دنوں میں بل کلنٹن کی ریٹنگ 62 فیصد تھی جبکہ جارج ڈبلیو بش کی ریٹنگ صرف 33 فیصد تھی۔