’مسلم مخالف بیان بازی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسلام سے متعلق ’ناقابل معافی سیاسی مبالغہ آمیزی‘ کی مذمت کی ہے۔
بظاہر ان کا اشارہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی جانب تھا۔
بطور صدر امریکہ کی کسی مسجد میں اپنے اولین دورے کے دوران صدر اوباما کا کہنا تھا کہ مسلمان مخالف بیان بازی کی ’ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے امریکی مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہ وہ ’نہایت قابل احترام اور حب الوطن امریکیوں سے ملے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
صدر اوباما میری لینڈ میں اسلامک سوسائٹی آف بالٹیمور مسجد میں گفتگو کر رہے تھے۔ بطور صدر وہ گذشتہ سات سال میں دنیا بھر میں سرکاری دوروں کے دوران مسجدوں کا دورہ کرچکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ مذہبی آزادی کے حق اور تعصب کے خلاف ایک بیان تھا۔
اپنی تقریر کے آغاز میں انھوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے میں امریکی مسلمانوں سے وہ دو لفظ کہنا چاہوں جو وہ عموماً زیادہ نہیں سنتے، اور وہ ہیں تھینک یو (شکریہ)۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس کمیونٹی کی خدمت کرنے کا شکریہ، اپنے ہمسایوں کی زندگی کا خیال رکھنے کا شکریہ، اور امریکہ کو ایک خاندان کے طور پر مضبوط اور متحد بنانے میں مدد کرنے کے لیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکی مسلمانوں کو ’چند ایک کے عوامل کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر الزام لگایا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’بہت سارے امریکی نہیں جانتے کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کسی مسلمان شخص کو جانتے ہیں۔‘
’بہت سارے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں صرف کسی دہشت گردی کے واقعے کے بعد سنتے ہیں یا ٹی ی یا فلم میں میڈیا کی جانب سے دکھایا جانا کا مسخ شدہ پہلو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نائن الیون کے بعد سے، حال ہی میں پیرس اور سین برنارڈینوں میں حملوں کے بعد سے، آپ نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ دہشت گردی کے ہولناک واقعات کو تمام عقیدے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔‘







