شام: سیدہ زینب کے مزار کے قریب دھماکے71، افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع نواسی رسول سیدہ زینب کے مزار کے قریب ہونے والے بم حملوں میں کم از کم 71 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں واقع انسانی حقوق کی تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 42 صدر بشار الاسد کے حامی فوجے تھے اور پانچ بچے سمیت 29 شہری شامل تھے۔
اتوار کو سیدہ زینب کے مزار کے قریب ہونے والے اس حملے میں دو خودکش حملہ آور شامل تھے تاہم بعض عینی شاہدین کے مطابق تین دھماکے ہوئے ہیں۔
ٹی وی فوٹیج میں کئی عمارتوں کو جلتے اور گاڑیوں کو تباہ دیکھایا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ مزار شیعہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے اور یہاں پر پیغمبر اسلام کی نواسی کی قبر موجود ہے جہاں بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان حاضری دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے تھے جب شامی حزبِ مخالف کے گروہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شام کے متعلق ہونے والے امن مذاکرات کے لیے جمع ہیں۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ حملے جن کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے کا مقصد امن مذاکرات کو ناکام بنانا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شامی حکومت اور حزب مخالف کے گروہ سے کہا ہے کہ وہ جاری خون ریزی کو روکنے کے لیے اس موقع کا استعمال کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی عربی کے مدیر سبسٹین اشر کا کہنا ہے کہ جب سے شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی ہے خطے بھر سے شعیہ جنگجوؤں کی شام آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان جنگجوؤں کا موقف ہے کہ وہ سیدہ زینب کے مزار کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے شام آ رہے ہیں۔
لبنان کے شیعہ جنگجو گروہ حزب اللہ کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے شام کی حکومتی افواج کا ساتھ دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔







