اوکسفرڈ روڈز کا مجسمہ نہیں ہٹائے گی

کالج کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ تاریخ کی پیچیدگی کی یاد دلاتا ہے اور نوآبادیاتی ورثے کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکالج کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ تاریخ کی پیچیدگی کی یاد دلاتا ہے اور نوآبادیاتی ورثے کا حصہ ہے

برطانیہ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی کے ایک کالج کا کہنا ہے کہ برطانوی نوآباد کار سیسل روڈز کا مجسمہ نہیں ہٹایا جائے گا۔

تاہم مہم کار اس مجسمے کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 19ویں صدی کے یہ تاجر اور سیاست دان افریقہ کے جنوبی علاقوں میں سفید فام نسل کی بالادستی کی علامت تھے۔

انھوں نے اوریئل کالج کے اس فیصلے کو ’اشتعال انگیز، بے ایمان اور عیب جویانہ قرار دیا ہے‘ اور اس کے خلاف لڑنے کا عندیہ دیا ہے۔

کالج نے کہا ہے کہ انھیں مشاورت کے بعد ’خاصی حد تک‘ یہ جواب ملا ہے کہ روڈز کا مجسمہ یہیں رہنا چاہیے۔

کالج کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ تاریخ کی پیچیدگی کی یاد دلاتا ہے اور نوآبادیاتی ورثے کا حصہ ہے۔

اس مجسمے کے خلاف سرگرم گروہ ’روڈز مسٹ فال‘ کا کہنا ہے کہ ’معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، ہم اپنی کوششیں دگنی کر رہے ہیں اور ہفتہ وار چھٹیوں میں اپنے اگلے اقدامات کے بارے میں بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔‘

مہم کاروں نے کالج کے اس فیصلے کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمہم کاروں نے کالج کے اس فیصلے کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے

کالج کی جانب سے مجسمہ نہ ہٹانے کا فیصلہ رواں ماہ کے آغاز میں اوکسفرڈ یونین کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی نے مجسمے کے بارے میں رائے شماری کے بعد آیا ہے جس میں 245 ووٹ مجسمہ ہٹانے کے حق میں ڈالے گئے جبکہ اس کے خلاف 212 ووٹ ڈالے گئے۔

روڈز مسٹ فال مہم کا آغاز جنوبی افریقہ سے ہوا تھا جہاں ان کا مجسمہ ہٹا دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس مہم کو اوکسفرڈ میں بھی شروع کیا گیا۔

اوریل کالج کا کہنا ہے کہ انھیں طالب علموں، اساتذہ اور دیگر افراد اور گروہوں کے ساتھ مشاورت میں بہت زیادہ حوصلہ افزا جواب ملے ہیں۔

کالج کا کہنا ہے کہ ’احتیاط کے ساتھ غور و فکر‘ کے بعد اس نے فیصلہ کیا ہے کہ مجسمہ یہیں رہے گا تاہم وہ اس بارے میں بھی جواب دے سکتا ہے کہ ‘ واضح تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ یہ یہاں کیوں ہے۔‘

’رہوڈز مسٹ فال‘ مہم کا آغاز جنوبی افریقہ سے ہوا تھا جہاں ان کا مجسمہ ہٹا دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن’رہوڈز مسٹ فال‘ مہم کا آغاز جنوبی افریقہ سے ہوا تھا جہاں ان کا مجسمہ ہٹا دیا گیا تھا

ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق کالج کی جانب سے مجسمہ نہ ہٹانے کا فیصلہ عطیہ کندگان کی جانب سے ایک کروڑ پاؤنڈ تک کی مالیت کے تحائف اور امداد روک لینے کی دھمکی کے بعد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سیسل روڈز 1870 کی دہائی میں اوکسفرڈ اور اوریل کالج میں زیرتعلیم رہے تھے۔ سنہ 1902 میں روڈز کے انتقال پر ان کی دولت کالج کو دے دی گئی تھی۔

ان کے نام پر شروع کیے گئے وظائف کے پروگرام کے تحت اب تک بیرون ملک کے آٹھ ہزار طالب علموں کو وظیفہ دیا جا چکا ہے۔