چیئرمین ماؤ کا قد آور مجسمہ ’ہٹا دیا گیا‘

گاؤں کے ایک اہکار نے بتایا کہ ماؤ زے تنگ کے مجسمے کی تیاری کے لیے منظوری نہیں لی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگاؤں کے ایک اہکار نے بتایا کہ ماؤ زے تنگ کے مجسمے کی تیاری کے لیے منظوری نہیں لی گئی تھی۔

چین میں سرکاری میڈیا کے مطابق ایک گاؤں میں جدید چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا 37 میٹر بلند مجسمہ اس کی تعمیر کے چند دن کے بعد ہی ہٹا دیا گیا ہے۔

<link type="page"><caption> چیئرمین ماؤ کا قدِ آدم مجمسہ (تصاویر)</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/01/160105_china_mao_statue_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

گاؤں کے ایک اہکار نے پیپلز ڈیلی اخبار کو بتایا کہ ماؤ زے تنگ کے مجسمے کی تیاری کے لیے منظوری نہیں لی گئی تھی۔

چین کے صوبے ہینان کے علاقے تونگشو میں کمیونسٹ رہنما کے قد آدم مجسمے پر تقریباً چار لاکھ 60 ہزار ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

چند روز قبل اس کے مکمل ہونے پر یہ سنہری مجسمہ عالمی سطح پر خبروں کا مرکز بھی رہا تھا۔

تونگشو کے مقامی اہلکاروں نے اس بات پیپلز ڈیلی سے بات کرتے ہوئے مجسمے کو ہٹانے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا اس بارے میں واضح نہیں ہیں کہ اسے کیوں ہٹایا گیا۔

سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی شیئر کی جارہی جس میں مجسمے کی ٹانگیں غائب ہیں اور سر کالے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے تاہم اس تصویر کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں یو سکی۔

اس قد آدم مجسمے پر تقریباً چار لاکھ 60 ہزار ڈالر خرچ کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس قد آدم مجسمے پر تقریباً چار لاکھ 60 ہزار ڈالر خرچ کیے گئے تھے

اس مجسمے کی تیاری میں مبینہ طور پر مقامی کاروباری شخصیات اور دیہاتیوں نے رقم دی تھی تاکہ چیئرمین ماؤ کو خیراج عقیدت پیش کرسکیں۔

بعض افراد نے انے مجسمے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ احساسات سے عاری مقام پر ہے جبکہ کئی دیگر افراد نے اس کی تعریف کی۔

چین میں سال 1978 سے اصلاحات کا عمل شروع ہونے کے بعد سے چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی کامیابیوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کی زیادہ تر پالیسیوں سے فاصلہ رکھتے ہیں۔

ہینان صوبے میں ماؤ کی پالیسیوں کی نتیجے میں 1950 میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ماؤ زے تنگ سنہ 1976 میں انتقال کرگئے تھے۔ حالانکہ ان کی قیادت میں معاشرتی انقلاب میں بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ہوئی تھیں جن کی وجہ سے چین میں دس برس تک افراتفری اور بدامنی کا دور رہا۔