لینن کے مجسمے کا سر 24 برس بعد زمین سے نکال لیا گیا

لینن کے مجسمے کا ساڑھے تین ٹن وزنی سر جنگل سے مغربی برلن کے سپینڈاو سیٹاڈیل میوزیم میں منتقل کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلینن کے مجسمے کا ساڑھے تین ٹن وزنی سر جنگل سے مغربی برلن کے سپینڈاو سیٹاڈیل میوزیم میں منتقل کیا جائے گا

روس کے انقلابی رہنما لینن کے مجسمے کا سر جو جرمنی کے ایک جنگل میں دفن کر دیا گیا تھا، 24 سال بعد زمین سے کھود کر نکال لیا گیا ہے۔

تاریخ دانوں کی طرف سے شروع کی گئی ایک مہم کے بعد، مزدوروں نے عمارتی پتھر سے بنے ہوئے مجسمے کے سر کو برلن کے باہر واقع جنگل کی زمین سے برآمد کیا۔

یہ سر روس کے کمیونسٹ رہمنا کی 19 میٹر (62 فٹ) لمبی یادگار کا حصہ تھا جو شہر کے مشرق میں اونچا سی دکھائی دیتی تھی۔

1991 میں دیوارِ برلن کے گرائے جانے کے بعد اسے اتار دیا گیا تھا اور اس کے ٹکڑے دور واقع جنگل میں دبا دیے گئے تھے۔

یہ مجسمہ 2003 میں بننے والی فلم ’گُڈ بائی لینن‘ میں بھی نظر آیا تھا جس کا موضوع اتحاد تھا۔ فلم کے ایک منظر میں اس مجسمے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر سے لے جایا گیا تھا۔

لینن کے مجسمے کا ساڑھے تین ٹن وزنی سر جنگل سے مغربی برلن کے سپینڈاو سیٹاڈیل میوزیم میں منتقل کیا جائے گا اور جرمنی میں یادگار اشیا کی نمائش میں شامل کیا جائے گا۔ مجسمے کاسر پتھر کے ڈھانچے کا وہ واحد حصہ ہے جسے زمین کھود کر نکالا گیا ہے۔