برفانی طوفان سے’ایک ارب ڈالر کا نقصان‘، بحالی کا عمل جاری
امریکہ کے مشرقی علاقوں میں تاریخ کے بدترین برفانی طوفانوں میں سے ایک کے گزر جانے کے بعد اتوار کو بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں۔
جمعے سے اتوار تک ہونے والی برفباری کے دوران پانچ ریاستوں میں تین فٹ سے زیادہ برف پڑی اور 20 ریاستوں میں ساڑھے آٹھ کروڑ سے زیادہ امریکی اس سے متاثر ہوئے۔
سب سے زیادہ برفباری مغربی ورجینیا میں گلینگیری کے علاقے میں ہوئی جہاں 42 انچ برف پڑی۔
برفانی طوفان کے نتیجے میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں جبکہ اس سے ہونے والے نقصان اور بحالی کے کاموں پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے جبکہ اس۔
اس طوفان کی وجہ سے امریکہ کے سب سے گنجان آباد شہر نیویارک اور دارالحکومت واشنگٹن میں زندگی کا پہیہ رک گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC Brasil
نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ شہر میں 1869 کے بعد یہ شہر پر گرنے والی دوسری سب سے زیادہ برف تھی تاہم اب شہر میں طوفان کی وجہ سے عائد کی گئی سفری پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں۔
تاہم واشنگٹن ڈی سی اور ورجینیا میں حکام نے عوام سے اب بھی یہی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں تاکہ صفائی کا عمل متاثر نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے ڈرائیوروں سے کہا ہے کہ وہ صرف انتہائی ضروری سفر پر ہی نکلیں۔
واشنگٹن میں زیرِ زمین ٹرین سروس کا نظام بھی مزید 24 گھنٹے بند رہے گا جبکہ کئی علاقوں میں سکول بھی پیر کو بند رہیں گے۔
طوفان کے بعد جمع ہونے والی برف ہٹانے کے دوران کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مزید 12 افراد طوفان کے دوران مختلف حادثات میں مارے گئے۔
اس برفانی طوفان کے باعث تقریباً سات ہزار پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ پیر کے دن بھی 615 پروازیں اڑان نہیں بھریں گی۔

،تصویر کا ذریعہBBC Brasil







