امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں برفانی طوفان سے نظامِ زندگی مفلوج
،تصویر کا کیپشنامریکہ کی مشرقی ریاستوں میں حالیہ تاریخ کے شدید ترین برفانی طوفان نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے
،تصویر کا کیپشناب تک 20 ریاستوں میں 8 کروڑ 50 لاکھ افراد اس برفباری سے متاثر ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنبرف پڑنے کا سلسلہ جمعے سے شروع ہوا اور اس دوران کچھ علاقوں میں 90 سینٹی میٹر (تین فٹ) تک برف پڑ چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرفانی طوفان کے نتیجے میں دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 11 ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہرین موسمیات کے مطابق جب اتوار کے روز برفانی طوفان واشنگٹن ڈی سی سے گزرے گا تو اس وقت وہاں 30 انچ یعنی ڈھائی فٹ تک برف پڑ چکی ہو گی۔
،تصویر کا کیپشناس طوفان کا اثر جنوب میں آرکنساس سے شمال مشرق میں میساچوسیٹس تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گيا ہے۔
،تصویر کا کیپشنریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے ریاست بھر میں سفر پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام پل، سرنگیں، زیرِ زمین ریل سروس اور سڑکیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشننیویارک شہر کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ شہر میں دو فٹ تک برف پڑ سکتی ہے اور یہ طوفان شہر کی تاریخ کے پانچ بدترین برفانی طوفانوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنریاست نیویارک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں نیوجرسی اور ورجینیا شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنابھی تک اس طوفان میں دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ اس طوفان کے دوران بعض علاقوں میں چند گھنٹے کے دوران تقریباً دو فٹ تک برف پڑے گی اور اس کا سب سے زیادہ اثر واشنگٹن پر ہوگا۔
،تصویر کا کیپشننیشنل ویدر سروس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’زبردست برفباری اور تیز ہوا کے ساتھ اڑنے والی برف سے خطرناک صورت حال پیدا ہونے کا امکان ہے جو زندگی اور جائیداد کے لیے خطرہ ثابت سکتی ہے۔‘