شام ’محصور قصبے میں امداد کی فراہمی کے لیے رضامند‘

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دمشق کے قریب واقع مدايا میں حالات ’بہت برے‘ ہیں
،تصویر کا کیپشنامدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دمشق کے قریب واقع مدايا میں حالات ’بہت برے‘ ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت مدايا قصبے میں لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تیار ہو گئی ہے۔

مدايا شام کا وہ قصبہ ہے جہاں حکومت مخالف باغیوں کا کنٹرول ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق مدايا کے لوگ بھوک سے موت کے دہانے پر ہیں اور انھیں فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

<link type="page"><caption> شام کی’خوف میں مبتلا‘ نئی نسل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_100w_syria_lost_generation_children_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> محصور علاقوں میں لوگ گھاس کھانے پر مجبور</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160107_syria_seige_fz" platform="highweb"/></link>

اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرم کا کہنا ہے کہ اگر رسائی حاصل ہوگئی تو پیر تک ٹرک آجائیں گے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دمشق کے قریب واقع مدايا میں حالات ’بہت برے‘ ہیں۔

مدایا دمشق کے شمال مغرب میں تقریباً 25 کلومیٹر دور اور لبنان کی سرحد سے تقریباً 11 کلومیٹر پر واقع ہے۔ جولائی سے سرکاری فوج اور اُن کی لبنانی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے اِس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے شمال میں واقع فوح اور کیفرایہ تک بھی رسائی کی اجازت حاصل لے لی تاہم مدایا کے برعکس یہ علاقے باغیوں کے گھیرے میں ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق مدايا کے لوگ بھوک سے موت کے دہانے پر ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبعض اطلاعات کے مطابق مدايا کے لوگ بھوک سے موت کے دہانے پر ہیں

شام کی 45 لاکھ آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہے، جن میں سے چار لاکھ ایسے 15 محصور علاقوں میں رہتے ہیں جہاں انھیں ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے ترجمان گریک بارو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ جس صورتحال میں داخل ہورہے ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے۔ ہم اگلے محاذوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، ہمیں یہ یقین دہانی کرنے کی ضرورت ہے کہ رسائی موجود ہے، اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

مدایا میں ہونے والی اموات کے بارے میں تاحال مکمل اعداد و شمار حاصل نہیں ہوسکے تاہم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ یکم دسمبر سے 23 مریض ایک صحت کے مرکز میں بھوک سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں بھوک سے لوگوں کے مرنے اور علاقہ چھوڑنے کی کوشش میں مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 محصور علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچانے میں امدادی اداروں کو دقت پیش آ رہی ہے
،تصویر کا کیپشن محصور علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچانے میں امدادی اداروں کو دقت پیش آ رہی ہے

اکتوبر کے وسط میں ادویات اور امدادی سامان سے لدے 21 ٹرکوں کو اِس علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی تھی، خیال کیا جارہا ہے کہ اِس علاقے میں اب بھی 40,000 افراد رہائش پذیر ہیں۔

اُس کے بعد سے صورتحال بدترین ہوگئی ہے، کیونکہ نہ تو اُن کو دوبارہ امداد بھیجی گئی ہے اور اب موسم سرما کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔

سیو دی چلڈرن نے بھی متنبہ کیا ہے کہ ’اگر مدایا میں فوری طور خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر اہم امداد پہنچانے کی اجزات نہ دی گئی تو آئندہ دونوں اور ہفتوں میں مزید بچوں کی اموات ہوسکتی ہیں۔‘

مدايا کے ایک مقامی شخص عبدالوہاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھوک کی وجہ سے لوگوں نے اب تو مٹی کھانا شروع کر دیا ہے کیونکہ یہاں کچھ بچا ہی نہیں ہے۔‘

‘گھاس اور پتے بھی برفباری سے مرچکے ہیں۔‘