’جنگ میں بھی پیار کےلیےجگہ ہوتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہRossiya 1
دوسری جنگ عظیم میں برطانوی افواج کی ہمت بڑھانے کے لیے ویرا لین موجود تھیں جو ’فورسز سویٹ ہارٹ‘ سے جانی جاتی ہیں۔ پھر ویتنام میں کامیڈین باب ہوپ نے امریکی آرمی کو محضوظ کیا اور جینیفر لوپیز نے افغانستان میں گلوکاری کی۔
شام میں روسی فضائیہ کے عملے کے ارکان کے لیے سال نو کی آمد کے موقع پر ہمت بڑھانے کے لیے سرکاری ٹی وی نے خاتون گلوکار یولیا چیچیرینا اور زارا سے کچھ گانے ریکارڈ کروائے ہیں جس کا نام ’سلیبریٹی ٹاسک فورس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
راک سٹار چیچیرینا نے شام میں لاذقیہ کے قریب ہیمیم میں روسی ہوائی اڈے پر گانا گایا ہے جس کے بول کچھ یوں تھے: IN WAR THERE IS A PLACE FOR LOVE’جنگ میں پیار کے لیے جگہ ہوتی ہے۔‘
انھوں نے گٹار جیسا موسیقی کا ساز اوکولیلی بھی گانا گاتے ہوئے بجایا۔گانا گاتے ہوئے ان کی پشت پر کنٹرول ٹاور اور ریت سے بھری بوریاں اس طرح سے رکھی ہوئی نظر آئیں جیسے وہ مورچے میں گا رہی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان کے جسم پر دو چاندی کے تمغے بھی لگائے گئے تھے۔
یولیا چیچیرینا ان کئی فنکاروں میں شامل ہیں جنھیں یوکرین کے حکام مشرقی یوکرین اور کرائمیا میں پرفام کرنے کے بعد بلیک لسٹ کر چکے ہیں۔
ہیمیم میں موجود روسی فضائیہ پہلے ہی سال نو سے قبل دل فریب پاپ سٹار زارا کی گلوکاری سے محضوظ ہو چکی ہے۔ خصوصی طور پر بنائے گئے سٹیج پر سرخ رنگ کے گاؤن میں ملبوس زارا نےاپنی موسیقی سے روسی فضائیہ کے ارکان کو انٹرٹین کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دو کنسرٹس کے علاوہ مسلح افواج میں شامل بعض پرفامرز نے بھی فن کا مظاہرہ کیا جن میں ڈانس کرتے ہوئے سیلرز اور ملٹری بینڈز شامل ہیں۔
روسی افواج کی ہمت بڑھانا واضح طور پر اعلیٰ حکام کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
واضح رہے کہ شام میں روس صدر بشار الاسد کی فورسز اور ان کے اتحادیوں کو حکومت مخالف باغیوں اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف مدد فراہم کر رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹ گزیتا ڈاٹ آر یو سے بات کرتے ہوئے فنکارہ زارا کا کہنا تھا کہ ’ دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کےنام پر جو ہر روز استحصال ہو رہا ہے تاکہ وہ ہمارے ملک کی سرحدوں تک نہ پہنچ سکے میں اس کی تعریف کرتی ہوں۔‘
روس کے سرکاری ٹی وی چینل روسیا 1 نے ہیڈ لائن چلائی: ’جنگی طیاروں کی آوازوں میں موسیقی۔‘
تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے روس پر بلا امتیاز فورسز استعمال کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹسنیشنل نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ستمبر سے نومبر کے درمیان شام میں روسی حملوں کے نتیجے میں کم سے کم دو سو عام شہری مارے گئے ہیں۔







