جنوبی شام میں فوج کی باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی

حکومتی افواج جنوبی صوبے کے شہر درعا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحکومتی افواج جنوبی صوبے کے شہر درعا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔

گذشتہ کئی ماہ میں پہلی مرتبہ حکومتی افواج کی جانب سے جنوبی علاقوں میں حکومت مخالف باغیوں کے خلاف اتنی بڑی کارروائی کی جا رہی ہے۔

<link type="page"><caption> شام کے متعدد باغی رہنما فضائی حملے میں ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151225_syrian_rebel_leaders_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’ایک تہائی شامی باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کا نظریہ ایک‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151220_syria_rebel_is_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

شامی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے باغی کے زیر اثر شہر شیخ مسکین میں بریگیڈ 82 نامی سب سے فوجی اڈہ واپس حاصل کر لیا ہے تاہم باغی ذرائع اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں اس سال کے آغاز میں حکومت مخالف باغیوں نے اس فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا جس سے حکومتی فوج کو جنوب میں نقل و حمل متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔

شام کے جنوب مغربی علاقے حکومت مخالف قوتوں کا گڑھ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشام کے جنوب مغربی علاقے حکومت مخالف قوتوں کا گڑھ ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکومتی افواج نے بھارتی گولہ بھاری کرتے ہوئے درعا نامی شہر کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

درعا سے ہی شامی صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ شام کے یہ جنوب مغربی علاقے ان حکومت مخالف قوتوں کا گڑھ ہیں جو تاحال جہادی گروہوں کے ساتھ شامل نہیں ہیں، اور ان کے قبضے میں معقول علاقہ ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار سبیچیئن اوشر کے مطابق شامی فوجی یہ کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ تین ماہ قبل شامی حکومت کے لیے روس کی فضائی کارروائیوں کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ حکومتی افواج جنوبی علاقوں میں بڑی کارروائی کی کوشش کر رہی ہیں۔