لیبیا میں پولیس کے تربیتی مرکز میں دھماکہ، ’درجنوں ہلاک‘

تربیتی مرکز لیبیا میں اقتدار سے ہٹائے جانے والے معمر قذافی کے دور میں فوجی اڈا رہ چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتربیتی مرکز لیبیا میں اقتدار سے ہٹائے جانے والے معمر قذافی کے دور میں فوجی اڈا رہ چکا ہے

اطلاعات کے مطابق لیبیا کے مغربی شہر زلیتن میں بارودی مواد سے بھرے ایک ٹرک نے پولیس کے تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لیبیا میں ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ الجہافل تربیتی مرکز پر ہوا ہے۔

یہ تربیتی مرکز لیبیا میں اقتدار سے ہٹائے جانے والے معمر قذافی کے دور میں فوجی اڈہ رہ چکا ہے۔

لیبیا میں معمر قذافی کو سنہ 2011 میں ہٹائے جانے کے بعد سے غیر مستحکم صورتحال پائی جاتی ہے اور اس بات پر بھی تشویش ہے کہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجو لیبیا میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس وقت لیبیا میں دو حکومتیں ہیں جن میں سے صرف ایک ہی کو بین الاقوامی برادری تسلیم کرتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیر انتظام لانا نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جس کی آواز 60 کلو میٹر دور تک مسراتہ میں بھی سنی گئی کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 127 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

طرابلس میں لیبیا کی حریف حکومت کی وزارت صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے میں 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ٹرک کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک پانی کا ٹرک تھا جس میں بارودی مواد بھرا گیا تھا۔

لانا نیوز ایجنسی کے مطابق زلیتن کے رہائشیوں سے خون کے عطیے کی درخواست کی گئی ہے۔

زلیتن کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زلیتن کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی دیکھ بھال میں مشکلات کے باعث درجنوں افراد کو دارالحکومت طرابلس کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

لیبیا میں میڈیا کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہوا تربیتی مرکز کے باہر بھرتی ہونے والے سینکڑوں نوجوان ورزش کر رہے تھے۔