’میں نے قذافی کو بچانے کی کوشش نہیں کی‘

،تصویر کا ذریعہREUTERS
سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ سنہ 2011 میں جب لیبیا میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو انھوں نے وہاں کے حکمران کرنل قدافی کو بچانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ٹونی بلیئر نے تصدیق کی کہ انھوں نے 24 گھنٹوں کے دوران کرنل قدافی سے دو یا تین مرتبہ ٹیلی فون پر بات کی تھی لیکن اس کے لیے انھوں نے موجودہ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے پہلے ہی اجازت لے لی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکہ کو بھی اس سے مطلع کیا تھا۔
<link type="page"><caption> ’افریقہ کا مسیحا‘ جو نہ رہا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/weather/2015/12/151206_gaddafi_african_hero_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’عراق جنگ کی غلطیاں، معاف کر دیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151025_iraq_war_blair_defence_zis.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> معمر قذافی کا خاندان اور ساتھی کہاں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2012/10/121020_qadhafi_family_wereabouts_rh" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد لیبیا کے آمر کو لیبیا سے باہر نکالنا تھا تا کہ طرابلس میں پر امن انتقالِ اقتدار ممکن ہو سکے۔ تاہم ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا کہ قدافی کی حکومت کو ’بچانا ممکن نہیں رہا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سابق برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا کہ وہ کرنل قدافی کو پچانا چاہتے تھے جس سے ممکن ہے کہ کیمیائی ہتھیار، خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کہ ہاتھوں لگنے سے محفوظ رہ گئے ہوں۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر کرنل قدافی نے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو خیرباد کہا تھا اور کیمیائی اور جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام بند کر دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹونی بلیئر 90 منٹ تک دارالعوام کی خارجہ کمیٹی کے سامنے سوالوں کا جواب دیتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ لیبیا میں مداخلت کا ان کا فیصلہ اچھی نیت پر مبنی تھا۔ انسانی بنیادوں اور حکومتی کی تبدیلی کے لیے کہیں مداخلت کرنے کا فیصلہ کافی مشکل ہوا کرتا ہے۔ سیاسی ارتقا کو انقلاب پر ہمیشہ فوقیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ انقلاب کا نتیجہ افراتفری اور عدم استحکام کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
ٹونی بلیئر نے اپنے دورِ حکومت میں مغرب اور قدافی کے درمیان صلح کی حمایت کی تھی اور سنہ 2004 میں لیبیا کا دورہ بھی کیا تھا۔ قدافی نے جواباً ہتھیاروں کا پروگرام ترک کر دیا تھا اور کئی کاروباری معاہدے بھی ہوئے لیکن مغربی ممالک اور لیبیا کے درمیان اس وقت اختلافات شدید ہوگئے جب قدافی نے اپنے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کو بہت سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ قدافی سے بات چیت کرنے کا فیصلہ مشکل تھا کیونکہ 1980 کی دہائی میں قدافی پر دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام تھا۔ لیکن لیبیا سے تعلقات بہتر بنانے پر ’انعام بہت بڑا‘ تھا کیونکہ اس سے سکیورٹی پر تعاون اور دیگر مسائل کے بارے میں فیصلے صرف لیبیا نہیں بلکہ مغرب کے ہاتھ میں بھی آنے تھے۔
جب 2011 میں لیبیا میں حالات بگڑنا شروع ہوئے تو مسٹر بلیئر نے فیصلہ کیا کہ وہ قدافی سے اپنے تعلقات استعمال کرکے کوشش کریں گے کہ وہ ملک چھوڑ دیں لیکن انھیں جلد ہی احساسں ہو گیا کہ قدافی اس پر بالکل تیار نہیں تھے۔







