قذافی کے بعد، لیبیا میں دوسرے عام انتخابات

،تصویر کا ذریعہ
لیبیا میں عام انتخابات ہو رہے ہیں اور لیبّیا کے شہریوں کو توقع ہے کہ اِن انتخابات کے نتیجے میں بدامنی اور انتشار کا وہ دور ختم ہو جائے گا جس کی ابتدا معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے سے ہوئی تھی۔
معمر قذافی کا اقتدار سنہ 2011 میں شروع ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں ختم ہوا اور اسی دوران وہ باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
ان انتخابات میں پارلیمان کی دو سو نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے ان عام انتخابات کو ملک میں مستحکم جہوری حکومت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
انتخابات کا اعلان موجودہ حکومت کے اس دعوے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ایک منحرف جنرل حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہا ہے۔
جنرل خلیفہ حفتر نے ان الزامات کی تردید کی لیکن اس کے ساتھ ہی اُن اسلامی شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی جنھوں نے، ان کے اپنے الفاظ میں ’تاوان کے لیے لیبیا کو یرغمال بنا رکھا ہے‘۔
اس کارروائی میں 70 لوگ مارے گئے اور کچھ بندوق بردار تریپولی میں پارلیمنٹ کے اندر بھی داخل ہو گیا۔
انتخابات میں 15 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ جب کہ لیبیا میں معمر قذافی کا اقتدار ختم ہونے کے بعد 2012 میں ہونے والے پہلے انتخابات میں 28 لاکھ رجسٹرڈ ووٹوں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تریپولی سے بی بی سی کی رعنا جواد کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی شرح کم رہنے کے آثار ہیں۔ یہاں تک کہ دارالحکومت میں بھی بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے مشرقی شہر درنا میں عدم استحکام کی صورتِ حال کے باعث ووٹ نہیں ڈالے جا رہے۔
دو سو نششتوں کے لیے دو ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔ ہر امیدوار اپنی انفرادی حیثیت میں انتخاب لڑ رہا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا ہے۔
بہت سے لبّیوں کو ان انتخابات سے بھی حقیقی نمائندوں کے ملنے کی توقع نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک رائے دہی کا حق استعمال کرتے رہیں گے جب تک انھیں ان کے حقیقی نمائندہ نہیں مل جاتے۔







