کرنل قدافی کا بیٹا لیبیا کی تحویل میں

،تصویر کا ذریعہsalthaldayki
لیبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ سابق صدر معمر قدافی کے صاحبزادے سعدی کو نائجر سے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اب وہ طرابلس میں ہیں۔
انٹر نیٹ پر شائع سعدی کی جو تصاویر جاری کی گئیں ہیں اس میں ان کا سر اور داڑھی مونڈی ہوئی ہے۔
سعدی قدافی جو لیبیا کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ بھی رہے ہیں سنہ دو ہزار گیارہ میں اپنے والدکی حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے۔
چالیس سالہ سعدی تھوڑے عرصے تک اٹلی میں فٹ بال بھی کھیلتے رہے ہیں اور وہ اپنے پرتعیش طرز زندگی اور عیاشیوں کی وجہ سے کافی بدنام تھے۔
لیبیا کے سابق صدر معمر قدافی کے سات بیٹے تھے۔ سعدی پر اپنے والد کے دورِ اقتدار میں اور ان کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران کئی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام ہے جن میں مظاہرین پر گولیاں چلانے اور انھیں ہلاک کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔
قدافی خاندان کے قانونی مشیر نک کوفمین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے زبردستی حوالگی قرار دیا ہے۔
کوفمین نے کہا کہ نائجر میں سعدی قدافی کو لیبیا کے حکام کے حوالے کرنے سے پہلے انھیں اپنے قانونی دفاع کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔
لیبیا میں بی بی سی کی نامہ نگار رانا جواد نے کہا ہے کہ سعدی قدافی کو لیبیا کے حوالے کرنے کا وقت بہت اہم ہے۔ اس سے قبل نائجر کی حکومت سعدی قدافی کو لیبیا کے حوالے کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سعدی قدافی کو یقیناً موت کی سزا سنائی جائے گی۔ سنہ دو ہزار بارہ میں انٹرپول نے سعدی قدافی کے ریڈ وارنٹ جاری کیے تھے تاکہ رکن ممالک پر سعدی قدافی کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ سعدی قدافی صحرا کے راستے لیبیا سے فرار ہو کر نائجر پہنچنے کے بعد سے ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رہائش پذیر تھے۔
سنہ دو ہزار گیارہ کے بعد سے لیبیا کی حکومت قدافی خاندان اور سابق حکومت کے اہلکاروں کو وطن واپس لانے کی کوششیں کرتی رہی ہے۔
قدافی کے ایک اور صاحبزادے اورقدافی خاندان کے سب سے اہم رکن سیف السلام قدافی نومبر سنہ دو ہزار گیارہ میں گرفتاری کے بعد سے اب تک پہاڑی قصبے زنتان میں قید ہیں۔
ان کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی جاچکی ہے لیکن مقدمہ سکیورٹی خدشات اور ضابطے کی کارروائی میں تاخیر کی وجہ سے التوا کا شکار ہو رہا ہے۔







