’لیبیا یورپ کا کھلا دروازہ ہے‘

- مصنف, کوئنٹِن سمروِیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، مصراتہ
لیبیا میں ایک الگ تھلگ کمپاؤنڈ کا آہنی دروازہ چرچرا کر کھلتا ہے جس کے آگے افسردگی اور بدحالی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔
اس کے اندر 400 کے قریب افریقی تارکینِ وطن غلیظ حالات میں رہتے ہیں جن میں سونے کے بارے میں سوچنا تو دور کی بات بمشکل بیٹھنے کی جگہ ہے۔
یہ مرد بیمار ہیں اور اکثریت فرش پر بیٹھے ہیں جبکہ کچھ ان کمروں کے آہنی شہتیروں میں پناہ لیے ہیں اور ان کا تعلق افریقہ کے کئی ممالک سے ہے جیسا کہ نیجر، اریٹریا، گیمبیا اور مصر ہیں۔
ملک کفاسم کی عمر 37 سال ہے اور ان کا تعلق اریٹریا ہے اور جب ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے لیبیا پہنچنے کے لیے انسانی سمگلروں کو پیسے دیے ہیں تو انھوں نے جواب دیا: ’یقیناً ہم نے انھیں 1600 ڈالر دیے خرطوم سے لیبیا کے لیے مگر بدقسمتی سے ہم کہیں پر گرفتار کر لیے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ لوگ جوؤں سے بھرے ہوئے ہیں اور ملک کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی اس جیل میں تین مہینے سے ہیں۔
ان کے اردگرد نوجوان لڑکے ہیں اور وہ ایک ایک کر کے اپنی عمریں بتاتے ہیں ’16، 16، اور 15۔‘
یہاں پر پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مرد بھی موجود ہیں۔
لیبیا کے ساحلی محافظ، انسانی سمگلر اور حتیٰ کہ تارکین وطن سب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’لیبیا یورپ کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک تاریک جیل میں ایک مرد گولی کے زخم سے گھائل پڑا ہے اور اس کا تعلق گیمبیا سے ہے مگر وہ یہ نہیں بتاتا کہ اسے گولی کس نے ماری۔
لیبیا کے اس ساحلی مقام سے اٹلی 320 کلومیٹر دور ہے اور چالیس کے قریب مرد اور عورتیں کو جن میں سے اکثریتی افریقی ہیں مصراتہ کے قریب پکڑا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انسانی سمگلروں نے سرحد پار جانے سے قبل انھیں اپنے پاسپورٹ اور دوسرے کاغذات ضائع کر دینے کا کہا اور ان کی کشتی کا انجن سفر کے چار گھنٹوں بعد جواب دے گیا اور دو دن تک وہ بھٹکتے رہے جس دوران ان کا پانی اور خوراک ختم ہو گئی۔
یہ محض خوش قسمتی تھی کہ ساحلی محافظوں کو وہ مل گئے اور انھیں بچانے والی مہم کے سربراہ کرنل رضا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ یہ اتنا ہی یورپ کا مسئلہ ہے جتنا لیبیا کا۔
’ہم نے یورپی یونین سے درخواست کی کہ ہمیں تلاش کرنے کی مہمات میں مدد دینے کے لیے کشتیاں اور ہیلی کاپٹر فراہم کریں مگر ہمیں کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ ہم اس بڑھتی تعداد کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور اب گیند یورپ کے کورٹ میں ہے اور انھیں ضروری معاونت فراہم کرنی چاہیے۔‘
کرنل رضا کا کہنا ہے کہ ’کھلے سمندر میں انسانی سمگلروں کو فوقیت حاصل ہے اور لیبیا کا مسئلہ ہے کہ اس کے پاس 1930 کلومیٹر پر پھیلے ساحلوں کی حفاظت کے لیے صرف آٹھ کشتیاں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا کہنا تھا کہ انھیں رات میں دیکھنے کے قابل بنانے والی چشمے، لاشیں محفوظ کرنے والے تھیلے چاہیں ہیں تاکہ ڈوبنے والے تارکینِ وطن کی لاشوں کو نکالا جا سکے۔
مصراتہ کے مردہ خانے میں حاجی رمضان بتاتے ہیں کہ ’رفیریجریٹرز اتنے بھر چکے ہیں کہ انھیں لاشوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھنا پڑ رہا ہے اور ایک زمانہ تھا کہ سال بھر میں صرف تین لاشیں آتی تھیں اب آٹھ ایک ہفتے میں آ جاتی ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ان لوگوں کا انسانی سمگلر بہت ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ہم کچھ لوگوں کو تو بچا لیتے ہیں جب وہ ساحل پر پہنچتے ہیں وہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اٹلی میں ہیں اور سبھی نہیں مرتے کچھ بچ بھی جاتے ہیں اور پہنچ جاتے ہیں۔‘
تاہم مردہ خانے میں فرش تک پر انسانی لاشیں پڑی ہیں۔
لیبیا ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو ایک ریاست کے طور کام نہیں کر رہا ہے اور سرحدوں پر جز وقتی ملازم یا رضا کار گشت کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھیں میں سے ایک عبدالبلا ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’تارکینِ وطن رات کی تاریکی میں صحرا میں نمودار ہوتے ہیں جب ٹھنڈ ہوتی ہے اور وہ پیدل شہروں تک بجلی کی تاروں کا تعاقب کرتے ہوئے پہنچتے ہیں۔‘
’ہمیں پتا چلتا ہے کہ کچھ رستے میں مر چکے ہوتے ہیں اور سڑک کنارے ان کی قبریں ملتی ہیں جبکہ دوسروں کے لیے ہم ایمبولینس منگواتے ہیں۔‘
مصراتہ کے قریب ایک محافظ بتاتا ہے کہ انھیں چند درجن تارکینِ وطن آئے دن نظر آتے ہیں مگر کئی بغیر پتا چلے گزر جاتے ہیں۔
ان میں سے سب کے مطابق یورپ میں ملازمت اور بہتر زندگی کا وعدہ اس زندگی سے بہت بہتر ہے جو وہ پیچھے چھوڑ کر آتے ہیں۔







